پیرس حملہ: صالح کے وکیل ان کا دفاع نہیں کریں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Belgium/French Police

گزشتہ سال پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے مرکزی ملزم صالح عبدالسلام کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ مزید ان کا دفاع نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے وکیل فرینک برٹن کے مطابق صالح عبدالسلام چوبیس گھنٹے وڈیو نگرانی میں رکھے جانے پر غصے میں ہیں۔

اپنے ساتھی وکیل سوین میری کے ہمراہ بی ایف ایم ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھوں نے شروع میں ہی کہا تھا کہ اگر ان کے موکل نے خاموشی اختیار کی تو وہ ان کے دفاع سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے۔

گزشتہ سال نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

نام نہاد دہشت گرد تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شراب خانوں، ریستورانوں، کنسرٹ ہال اور سٹاڈ دی فرانس پر ایک ہی وقت ہونے والے حملوں کے ذمہ داری قبول کی تھی۔

صالح عبدالسلام کو اس سال مارج میں برسلز سے گرفتار کیا گیا تھا اور اپریل میں فرانس منتقلی کے بعد سے وہ مسلسل خاموش ہیں۔

جیل کے سیل میں ان کی وڈیو کے ذریعے چوبیس گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے۔ مسٹر برٹن نے مئی میں کہا تھا کہ ملزم نگرانی سے خصوصی طور پر نالاں ہیں۔

انھوں نے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ صالح عبدالسلام کی نگرانی کا فیصلہ ’سیاسی‘ ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ صالح عبدالسلام نے پیرس حملوں کی منصوبہ بندی اور حملہ آوروں کو وہاں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، تاہم تفتیش کار ابھی تک ان کے مخصوص کردار کا تعین نہیں کر سکے۔

ٹی وی چینل پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وکلا نے اپنے موکل کو 6 اکتوبر کو بتایا کہ وہ اب ان کی نمائندگی نہیں کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق فل الحال کسی اور کے ذریعے اپنی نمائندگی نہیں چاہتے۔

فرانس کے قانون کے مطابق تفتیش کے دوران وکیل کے ذریعے نمائندگی کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن عدالتی کارروائی کے دوران ملزم کی نمائندگی کے لیے وکیل کا ہونا ضروری ہے۔

ان کی وکیل سوین میری کا کہنا ہے کہ اس سارے معاملے کے دوران اصل نقصان پیرس حملوں میں ہلاک ہونے والوں کا ہوا ہے کیونکہ انہیں حقائق کو جاننے کا پورا حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا یہ بھی حق ہے کہ ناقابلِ فہم بات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

اسی بارے میں