شام کے مسئلے پر امریکہ اور روس کا دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جان کیری اور سرگئی لاوروف کے درمیان سنیچر کو ملاقات ہو گی

روس اور امریکہ نے شام کے مسئلے پر رواں ماہ معطل ہونے والے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نو دن پہلے امریکہ نے یہ کہتے ہوئے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا کہ روس جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کو پورا نہیں کر سکا۔

شام: روس نے حلب پر پھر بمباری شروع کر دی

امریکہ کا شام کے معاملے پر روس کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سنیچر کو سوئٹزرلینڈ میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری اور دیگر علاقائی طاقتوں کے حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

شام کے مسئلے پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب دو دن پہلے شامی شہر حلب میں دوبارہ شروع ہونے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 75 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ جان کیری مسئلے کے خاتمے کے لیے کثیر فریقی حل پر بات چیت کریں گے جس میں تشدد کا پائیدار خاتمہ اور امدادی سامان کی ترسیل کو دوبارہ بحال کرنا شامل ہے۔

توقع ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ہونے والی بات چیت میں سعودی عرب، ترکی اور ایران بھی شامل ہوں گے۔

اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ شامی شہر حلب میں فوری جنگ بندی کی جائے تاکہ وہاں محصور شہریوں تک امداد پہنچائی جا سکے۔

خیال رہے کہ ایک دن پہلے ہی بدھ کو روسی طیاروں نےحلب میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں ایک مرتبہ پھر بمباری شروع کر دی تھی جسے کئی روز کی شدید ترین بمباری قرار دیا جا رہا ہے۔

بمباری کی اس تازہ لہر کے دوران شامی حکومت کے کہنے پر ایک عارضی وقفہ دیا گیا ہے تاکہ عام شہری حلب سے نکل جائیں۔

گذشتہ ماہ روس اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدے ٹوٹ جانے کے بعد حلب پر متعدد بار فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔

یہ بمباری ایک ایسے وقت شروع کی گئی ہے جب روسی صدر ولادی میر پوتن نے حال ہی میں فرانس کا دورہ منسوخ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حلب میں جنگ بندی ختم ہونے کے بعد فضائی حملوں میں درجنوں عام شہری مارے جا چکے ہیں

فرانس میں صدارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر فرانسوا اولاند اور ولادی میر پوتن کی سے اس ماہ کے آخر میں ملاقات طے تھی تاہم جب فرانس نے کہا کہ اس ملاقات میں صرف شام کے مسئلے پر بات ہو گی تو یہ ملاقات منسوخ کر دی گئی۔

گذشتہ دنوں اقوام متحدہ میں امریکہ کے مندوب نے شام کے شہر حلب میں بمباری کے تناظر میں روس پر 'بربریت' کا الزام عائد کیا تھا۔

روس نے کئی بار عام شہریوں کی نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ شام میں صرف دہشت گردوں پر حملے کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ستمبر کے آخری ہفتے کے دوران حلب کے محصور شہر پر روس اور شامی افواج کی بمباری کی وجہ سے 400 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حلب میں تقریباً پونے تین لاکھ عام شہری ابھی بھی مقیم ہیں اور یہ شہر مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں