اسرائیل نے یونیسکو سے تعلقات منجمد کر دیے

یروشلم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ مقام مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے یکساں طور پر مقدس ہے

اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کے ساتھ یہ الزام لگا کر تعاون منجمد کر دیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے مقدس ترین مقامات کے ساتھ یہودیت کے تعلق کو رد کیا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ تعلیم نے کہا کہ یونیسکو کا یروشلم کے بارے میں فیصلہ 'تاریخ کو مسترد کر کے دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔'

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب یونیسکو نے یروشلم کے ایک مقام کو بار بار صرف اسی نام سے یاد کیا ہے جس سے اسے مسلمان پکارتے ہیں۔ یہودی بھی اسے مقدس مانتے ہیں۔

یروشلم کے اس مقام کو یہودی ٹیمپل ماؤنٹ اور مسلمان حرم الشریف کہتے ہیں۔ سات عرب ملکوں کی جانب سے پیش کردہ فیصلے کے مسودے میں یروشلم اور مغربی کنارے میں اسرائیل کی سرگرمیوں پر تنقید کی گئی ہے۔

اس دستاویز میں 'یروشلم کے قدیم شہر اور اس کی فصیلوں کی تین توحیدی مذاہب کے لیے اہمیت' کا ذکر کرتے ہوئے پہاڑی کو صرف 'مسجد الاقصیٰ/حرم الشریف' کہا گیا ہے۔

اسی جگہ پر یہودیوں کے معبد واقع ہیں اور مغربی دیوار اس سے ملحق ہے جسے یہودیوں کے ہاں مقدس مقام کی حیثیت حاصل ہے۔

حرم الشریف وہ جگہ ہے جہاں مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق پیغمبرِ اسلام نے معراج پر جانے سے قبل قیام کیا تھا۔

حرم الشریف: آخر جھگڑا کیا ہے؟

اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد 'فلسطین اور مشرقی یروشلم کی مخصوص ثقافت کا تحفظ ہے۔'

اس میں اسرائیلی اقدامات کی بار بار مذمت کی گئی ہے جن میں طاقت کا استعمال اور مسلمان عبادت گزاروں اور تاریخی آثار پر پابندیاں لگانا شامل ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس تنقید کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں۔

اس مسودے کے حق میں 24 اور مخالفت میں چھ ووٹ پڑے تھے، جب کہ 26 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔

اب اسے یونیسکو کی انتظامیہ کو پیش کر دیا جائے گا جو اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا اسے منظور کیا جائے یا نہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ تعلیم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ یونیسکو 'یروشلم کے یہودیت کے ساتھ ہزاروں سال پر مبنی تعلق' کو نظر انداز کر کے 'اسلامی دہشت گردی' کو مدد دے رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے فیس بک پر لکھا کہ یونیسکو 'مہملیت کی نوٹنکی' بن کر رہ گیا ہے اور یہ اس کا ایک اور 'پاگلانہ فیصلہ' ہے۔

'یہ کہنا کہ اسرائیل کا ٹیمپل ماؤنٹ اور مغربی دیوار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ کہنے کے مترادف ہے کہ چین کا دیوارِ چین سے کوئی تعلق نہیں یا پھر مصر کا اہرامِ مصر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔'

تاہم فلسطینیوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رضینہ نے کہا: 'یہ اسرائیل کے لیے اہم پیغام ہے کہ وہ اپنا قبضہ ختم کر کے یروشلم کو مسلمانوں کا دارالحکومت تسلیم کرے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں