سکاٹ لینڈ کی آزادی کا دوسرا ریفرینڈم ممکن

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نکولا سٹروجن سکاٹ لینڈ کی مقبول رہنما ہیں

سکاٹ لینڈ نیشنل پارٹی کی رہمنا نکولا سٹروجن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کے دوسرے ریفرینڈم کے لیے مشاورت کا سلسلہ اگلے ہفتے شروع کر دیا جائے گا۔

انھوں نے گلاسگو میں ہونے والی اپنی پارٹی کی ایک کانفرنس میں کہا کہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کے ریفرینڈم کے بل کا مسودہ اگلے ہفتے شائع کر دیا جائے گا۔

نکولا سٹروجن نے کہا کہ سکاٹ لینڈ کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ یہ محسوس کرے کہ اس کے مفادات کا تحفظ برطانیہ میں ممکن نہیں ہے تو وہ اپنے لیے علیحدہ راستے کا تعین کرے۔

سکاٹ لینڈ کی آزادی کے پہلا ریفرینڈم جو اٹھارہ ستمبر سنہ 2014۔ میں ہوا تھا اس میں پچپن فیصد ووٹ آزادی کی مخالفت میں ڈالے گئے تھے۔

سٹروجن نے مندوبین سے کہا کہ سکاٹ لینڈ کو یہ حق ہے کہ اگر غیر یقنی مستقبل کا سامنا ہو تو سکاٹ لینڈ کو پورا حق ہے کہ کسی بہتر چیز کا انتخاب کر لے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں پر عزم ہیں کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے سے پہلے سکاٹ لینڈ کو اپنی آزادی کے سوال پر از سر نو غور کرنے کا حق ہے اور اس سے سکاٹ لینڈ کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 24 جون کے بعد جب برطانیہ نے یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا اس دن کے بعد سے سکاٹ لینڈ کی آزادی کا ریفرنڈم کا امکان بہت بڑھ گیا ہے۔

سکاٹ لینڈ کے عوام کی باسٹھ فیصد آبادی نے یورپ میں رہنے یا نکلنے کے لیے ہونے والے ریفرینڈم میں یورپ میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ جبکہ برطانیہ میں48۔ فیصد افراد اس حق میں تھے کہ یورپ میں رہا جائے اور 52 ۔ فیصد کی رائے تھی کہ برطانیہ کو یورپ سے نکل جانا چاہیے۔

اسی بارے میں