شام میں ترک حمایت یافتہ باغیوں کا دابق پر قبضے کا دعویٰ

شام تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دابق ترکی کی سرحد سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

شامی باغیوں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف اہم کامیابی حاصل کرنے اور دابق نامی قصبے کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ترک حمایت یافتہ باغیوں کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ انھوں نے شہر کو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے چنگل سے آزاد کروا لیا ہے۔

دابق ترکی کی سرحد سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے تاہم دولت اسلامیہ کے پروپیگنڈے میں اس جگہ کا بہت ذکر کیا گیا ہے اور یہ دولت اسلامیہ کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے۔

دولت اسلامیہ نے اپنے رسالے کا نام بھی دابق رکھا ہے۔

دابق میں باغیوں نے یہ پیش قدمی ایسے وقت کی ہے جب امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری شام میں قیام امن کے سلسلے میں جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ سے اتوار کو لندن میں ملاقات کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولت اسلامیہ کے لیے یہ قصبہ علامتی اہمیت رکھتا ہے

سنیچر کو انھوں نے سوئٹزرلینڈ میں روسی ہم منصب سرگے لاوروف سے بھی ملاقات کی تھی تاہم اس ملاقات کے بعد بھی کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔

باغیوں نے دابق کی جانب پیش قدمی کا آغاز رواں ماہ کے آغاز میں کیا تھا اور انھیں اس سلسلے میں ترک فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران باغیوں نے دابق کے اردگرد کے دیہات پر قبضہ کر لیا تھا اور یوں دابق ان کے گھیرے میں آ گیا تھا۔

اسی بارے میں