انگولا میں اسلام پر پابندی کی افواہیں

مسجد تصویر کے کاپی رائٹ OTHERS
Image caption کئی اخبارات میں مسمار شدہ مسجد کی جو تصویر شائع ہوئی ہے وہ دراصل نائجیریا کی ہے

افریقی ملک انگولا میں اسلام پر پابندی کے حوالے سے غلط خبریں ایک بار پھر گرم ہو رہی ہیں۔ نامہ نگار کلیئر سپینسر نے معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ آیا ان افواہوں کا تعلق امریکی صدارتی انتخاب سے تو نہیں۔

فرینک لی نے اخبار فریڈم ڈیلی میں لکھا: ’اس وقت مسلمان پوری طرح پاگل ہو چکے ہیں۔‘

لبرٹی از وائرل نامی ویب سائٹ پر لکھا گیا: ’انگولا کے حکام اسلام پر پابندی عائد کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کے مطابق یہ کوئی مذہب نہیں بلکہ فرقہ ہے۔‘

اسی اخبار نے اس کے بعد انگولا کے دارالحکومت کے قریبی علاقے زانگو میں ایک مسجد منہدم کیے جانے کی تفصیلات لکھیں۔

ریگن کوالیشن ڈاٹ کام کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ ’جو کچھ افریقہ میں مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ کر رہے ہیں، وہی کچھ انگولا میں ہونے سے روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔‘

امیریکا فرسٹ پیٹریاٹ نامی ویب سائٹ کے مطابق اب تک 80 مساجد مسمار کی جا چکی ہیں اور ’امریکہ کو انگولا سے ایک یا دو چیزیں سیکھ لینی چاہییں۔‘

لیکن اصل کہانی کچھ اور ہے۔

لیوانڈا سے ملنے والے اس تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک مسجد اب بھی فعال ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Angolamosque

انگولا کے ایک مسلمان ایڈم کیمپس نے بی بی سی کو بتایا: ’درحقیقت یہاں مسلمان برادری میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔‘

تاہم انھوں نے بتایا کہ ’چند برس قبل ان کی مسجد بند کر دی گئی تھی، جب کہ دوسری چند مساجد مسمار کی گئی تھیں۔‘

اسلام پر پابندی عائد کیے جانے کی غلط فہمی یہیں سے پیدا ہوئی۔ ایڈم کے بقول یہ مساجد اس لیے مسمار کی گئی تھیں کیونکہ حکومت کا کہنا تھا کہ ان کی تعمیر کے لیے اجازت نہیں لی گئی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام مساجد بند نہیں کی گئیں بلکہ وہ دوسری مساجد میں جاتے ہیں حالانکہ بعض لوگ بند کی گئی مساجد کے باہر ہی نماز ادا کرتے ہیں۔

تین ماہ بعد وکلا کی مدد سے یہ تین منزلہ مسجد فعال کروا دی گئی۔

ایڈم نے بتایا: ’انگولا میں اسلام پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن ہمیں بھی دوسری اقلیتیوں کی طرح مسائل کا سامنا ہے کیونکہ ہمیں حکومت نے تسلیم نہیں کیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت حالات پرسکون ہیں اور امید ہے کہ ایسے ہی رہیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PETER MARSHALL

انگولا میں اسلام پر پابندی کی افواہ جنوبی افریقہ کے اخباد ڈیلی میورِک نے پھیلائی تھی۔ اسکے بعد کئی اخباروں نے انگولا کے وزیرِ ثقافت روزا کرزے سلوا کے حوالے سے بتایا کہ تاحکمِ ثانی مساجد بند رہیں گی۔

وہ بات جس نے اس خبر کو مزید تقویت دی یہ تھی کہ ایک گروہ کی جانب سے مسلمانوں کو تسلیم کیے جانے کی درخواست حکومت نے رد کر دی۔

لیکن یہ بات حکومت کے اسلام مخالف رویے کے ثبوت کے لیے کافی نہیں ہے کیونکہ ملک میں کئی دوسری اقلیتیں بھی ہیں جنھیں تسلیم نہیں کیا گیا۔

ایک امریکی رپورٹ کے مطابق اس سال دو مساجد بند کروائی گئیں لیکن اسی دوران 52 چرچ بھی بند کیے گئے۔ اس لیے یہ مسلمانوں کے خلاف ہدف بنا کر کیا گیا اقدام معلوم نہیں ہوتا۔

کم از ایک ادارہ امریکی ویب سائٹ کنزروٹو ڈیلی پوسٹ کا کہنا ہے کہ یہ سب نومبر میں امریکی صدارتی انتخاب کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

سائٹ کا کہنا ہے کہ ’آپ نے شاید نہ سنا ہو کہ صدر اوباما یہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں کہ انتہاپسند اسلام امریکہ کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اوباما چاہتے تھے کہ لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ اسلام کو امریکہ میں خوش آمدید کہا جاتا ہے اور یہی خیالات ہلیری کلنٹن کے ہیں۔‘

اگر آپ یہ نہیں جانتے کہ کون سا خبر رساں ادارہ کس امریکی امیدوار کے ساتھ ہے تو ان کے فیس بک صفحات پر یہ لوگ ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن کے صفحات لائیک کرنے کی دعوت دیتے نظر آ جائیں گے۔

کئی امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے امیگریشن سے متعلق سخت موقف اور مسلمانوں کے خلاف رویے کے حق میں ہیں۔

جو ویب سائٹس انگولا میں اسلام پر پابندی کی افواہیں پھیلا رہی ہیں وہ شاید وہی ہیں جو چاہتی ہیں کہ اس خیال کو تقویت دی جائے کہ اسلام ایک خطرہ ہے جس کا مسیحی قوموں کو مقابلہ کرنا اور شکست دینا ہے۔

ان کے خیال میں انگولا کے اقدامات بالکل وہی ہیں جو انتخاب جیتنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے ہوں گے۔

جنوبی افریقہ کے اخباد ڈیلی میویرک کے مطابق یہ جھوٹی خبر پھیلانے والے وہی لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ اس پابندی کی خبر سے باقی دنیا بھی متاثر ہو کر ایسا ہی کرے گی۔

اسی بارے میں