عراقی فوج کے حملے سے قبل موصل سے سینکڑوں شہری فرار

موصل تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption موصل پر قبضے کی جنگ کے پیشِ نظر آپس پاس کے علاقوں کے شہری وہاں سے فرار ہو رہے ہیں

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے کہا ہے کہ عراقی شہر موصل سے نو سو کے قریب افراد فرار کر شام میں داخل ہو گئے ہیں۔

عراقی فوج کی جانب سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ شہر موصل پر حملے کے بعد سے پہلی بار عام شہریوں کے انخلا کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

خیال ہے کہ موصل میں کل 15 لاکھ افراد موجود ہیں جن میں سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد پانچ ہزار ہے۔

خدشہ ہے کہ جنگ کے دوران جنگجو شہریوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کر سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کی ترجمان نے کہا کہ موصل سے نو سو سے زیادہ افراد سرحد عبور کر کے شام میں داخل ہو گئے ہیں اور اب وہ پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گیلپن نے کہا کہ امکان ہے کہ ادارہ اس کیمپ کو ابتدائی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرے اور پھر انھیں واپس عراق میں کسی محفوظ مقام تک لے جائے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے انخلا سے ظاہر ہوتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ لوگوں کو موصل میں روک نہیں پا رہی ہے۔

اس سے یہ خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو بھی فرار ہونے کے لیے یہی راستہ استعمال کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے دولتِ اسلامیہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ موصل کی جانب عراقی فوج کی پیش قدمی کے موقعے پر عام شہریوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اربیل میں رہنے والے عراقی عیسائیوں نے قراقوش کی آزادی کی خبر سن کر خوشیاں منائیں لیکن بعد میں یہ خبر غلط ثابت ہوئی

پینٹاگون کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس نے منگل کے روز واشنگٹن میں ایک نامہ نگار کے اس سوال پر کہ آیا دولتِ اسلامیہ شہریوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہی ہے، کہا: 'بالکل، انھیں کی مرضی کے بغیر رکھا گیا ہے۔ ہم نے کسی کو وہاں سے نکلتے یا بھاگتے ہوئے نہیں دیکھا۔'

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے بھی منگل کے روز خدشہ ظاہر کیا تھا کہ 'آنے والے دنوں میں جنگجو عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ ’وہ ان کے درمیان چھپ سکتے ہیں، شہر سے فرار ہو سکتے ہیں یا پھر ان کو شہر چھوڑنے سے روک سکتے ہیں۔'

اقوامِ متحدہ موصل کے قریب پناہ گزینوں کے لیے کیمپ تیار کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رابطہ کار برائے عراق لیزا گرینڈ نے کہا کہ ان کا ادارہ اس بنیاد پر کام کر رہا ہے کہ جنگی کارروائی کے آغاز کے بعد دو لاکھ لوگوں کو مدد کی ضرورت پڑے گی۔

عراقی اور کردی فوجیں شہر سے ابھی 30 اور 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔

انھوں مشرق کی طرف سے قراقوش شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے، تاہم وہاں اب بھی دولتِ اسلامیہ کے جنگجو مزاحمت کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں جنگجوؤں کو عراقی فوج پر فائر کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل کہا گیا تھا کہ اس قصبے کو آزاد کروا لیا گیا ہے جس کے بعد سے وہاں سے نکلنے والے عیسائیوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا جو اب اربیل میں رہتے ہیں۔

جنگ سے قبل قراقوش میں عراقی عیسائیوں کی سب سے بڑی تعداد مقیم تھی۔ یہ شہر موصل سے 32 کلومیٹر دور ہے۔

توقع ہے کہ بدھ کو اتحادی فوج حملہ دبارہ شروع کرے گی۔ اس میں 34 ہزار کے قریب عراقی فوجی، کرد جنگجو، سنی اور شیعہ مسلمان اور عرب قبائلی حصہ لے رہے ہیں۔

موصل اتنا اہم کیوں ہے؟

تیل کی دولت سے مالامال نینوا صوبے کا صدر مقام موصل عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس پر جون 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے قبضہ کر لیا تھا۔

اس سے دولتِ اسلامیہ نے یہ پیغام دیا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر علاقوں پر قبضہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔

یورپی یونین کے سکیورٹی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ موصل کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑوانے کی صورت میں یورپی یونین کو جہادیوں کی بڑی تعداد میں یورپ آمد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

جولین کنگ نے ایک جرمن اخبار کو بتایا کہ شدت پسندوں کی ایک قلیل تعداد بھی ایک خطرہ ثابت ہو سکتی ہے اور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

گذشتہ نومبر میں پیرس پر دہشت گردانہ حملے میں ملوث بعض جنگجو شام سے فرانس پہنچے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں