حلب پر بمباری امدادی کارروائیوں کے لیے معطل: روس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روس کا کہنا ہے کہ روسی اور شامی جنگی جہازوں نے منگل کے روز حلب پر فضائی حملوں کا سلسلہ معطل کر دیا تاکہ شہر میں امدادی سامان پہنچایا جا سکے۔

روس کے وزیر دفاع سر گئی شوئیگو کے مطابق بمباری منگل کے روز روکی گئی۔

روسی نے پہلے ہی منگل کے روز صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک آٹھ گھنٹے کے لیے بمباری روکنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر دفاع سر گئی شوئیگو نے باغیوں اور شہر کے مشرقی علاقے میں پھنسے ہوئے عام شہریوں سے کہا کہ وہ امدادی کام کے لیے فراہم کیے گئے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور شہر چھوڑ دیں۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ روسی جنگی طیاروں نے منگل کو بمباری روکنے سے پہلے حلب میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو نشانہ بنایا۔

برطانیہ میں قائم مانیٹرنگ گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق پیر کی رات ہونے والی بمباری میں میاں بیوی اور ان کے تین بچے ہلاک ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امدادی کارکنوں نے اس 12 سالہ لڑکے تک پہنچنے کے لیے کرین کا استعمال کیا۔

گروپ کے مطابق باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر حالیہ بمباری میں اب تک 430 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے منگل کے روز اعلان کردہ جنگ بندی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ لوگوں کو محصور علاقے سے نکلنے کے لی کم از کم 12 گھنٹے کا وقت درکار ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ بمباری میں ہر قسم کے تعطل کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ وقفہ طویل ہو تاکہ امدادی سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچایا جا سکے۔

اسی بارے میں