زنزیبار میں اوکٹوپس کے شکاری

تصویر کے کاپی رائٹ Tommy Trenchard
Image caption زنزیبار کے سفید ساحل چھٹیوں کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن ہر صبح جب سمندر کی لہریں اترنا شروع ہوتی ہیں اور سیاح اپنے اپنے ہوٹلوں میں واپس جا چکے ہوتے ہیں مرد اور عورتوں پر مشتمل قافلے ساحلوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ افراد سوٹیوں اور برچھی سے مسلح ہوتے ہیں اور اوکٹوپس کا شکار کرتے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Tommy Trenchard
Image caption لہروں کے اترنے پر یہ افراد کم از کم دس اوکٹوپس پکڑتے ہیں۔ اوکٹوپس کی جزیرے کے ہوٹلوں میں بہت مانگ ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Tommy Trenchard
Image caption سمندر میں موجود کھاڑی کے باعث مقامی افراد مچھلیاں، شیل فش اور اوکٹوپس کا شکار کر سکتے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Aurelie Marrier d'Unienville
Image caption مغربی بحیرہ ہند میں تنزانیا میں سب سے زیادہ اوکٹوپس پائے جاتے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Tommy Trenchard
Image caption 35 سالہ عبداللہ علی اپنی روایتی لکڑی کی کشتی میں اوکٹوپس کو پکڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ روایتی طور پر عورتیں اوکٹوپس پکڑتی ہیں لیکن اب زیادہ سے زیادہ مرد بھی اس شکار میں شامل ہو رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Aurelie Marrier d'Unienville
Image caption عبداللہ علی کا کہنا ہے کہ اوکٹوپس کے شکار سے ان کی روزی روٹی چل رہی ہے۔ وہ ایک کلو کے اوکٹوپس کے شکار پر ڈھائی ڈالر کماتے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Tommy Trenchard
Image caption اقوام متحدہ کی خوراک اور کاشتکاری کی تنظیم کا کہنا ہے کہ تنزانیا میں اوکٹوپس کے شکار میں اضافہ ہوا ہے اور وہ سنہ 1990 میں 482 ٹن سے بڑھ کر 2012 میں 1250 ٹن ہو چکا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Tommy Trenchard
Image caption چھوٹی لہروں کے دوران مونگے اور دندانے دار اور کھردری چٹانیں اوکٹوپس کے چھپنے کی اچھی جگہ ہوتی ہیں اور غیرمشاق نگاہوں سے وہ اوجھل ہوتے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Tommy Trenchard
Image caption بویجو گاؤں کی اوکٹوپس کی شکاری مریم صبح کے کام کے بعد سمندر میں تیراکی کا لطف لیتے ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Tommy Trenchard
Image caption ماما جمعہ کہنہ مشق اوکٹوپس کی شکاری ہیں اور وہ پاجے ساحل کے شفاف پانی میں اوکٹوپس کی پناہ گاہیں تلاش کر رہی ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Aurelie Marrier d'Unienville
Image caption بویجو میں ایک خاتون سمندری جھاڑیوں میں شام کو اوکٹوپس تلاش کر رہی ہیں۔ مقامی باشندوں کی روزی روٹی بہت حد تک ان شکاروں پر ہی منحصر ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Tommy Trenchard
Image caption سٹون ٹاؤن میں بھنے ہوئے اوکٹوپس مکمل غذا کے طور پر ہوٹلوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ تنزانیا کے زیادہ تر اوکٹوپس یورپ برآمد کر دیے جاتے ہیں لیکن زنزیبار میں سیاحت کے فروغ سے بازار میں تیزی آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات