مودی اسرائیلی فوج سے متاثر کیوں؟

اسرائیلی فوجی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسرائیلی افواج اپنے آپریشنز کے لیے معروف ہے

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہماچل پردیش میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’آج کل پورے ملک میں ہماری فوج کی صلاحیتوں پر بات ہو رہی ہے۔ پہلے کبھی اسرائیل نے ایسا کیا، سنتے تھے، لیکن دیش نے دیکھا کہ انڈیا کی فوج بھی کسی سے کم نہیں ہے۔‘

انڈین وزیر اعظم مودی نے گذشتہ دنوں پاکستان کے پاس کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کے ذریعے کیے جانے والے 'سرجیکل سٹرائیکس' کا براہ راست ذکر تو نہیں کیا لیکن یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کا اشارہ اسی طرف تھا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے کس طرح کے حملے کیے ہیں اور ان حملوں کو کب اور کس طرح انجام دیا۔ یہاں ان واقعات پر ایک نظر ڈالی گئي ہے جن کے سبب اسرائیلی فوج کا ذکر کیا گياہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غزہ کی ایک تباہ شدہ عمارت کا منظر

1: 16 مئی، 2014: اسرائیلی فوج نے غزہ کے ساحل پر میزائل سے سٹرائیک کیا تھا، جس میں چار بچوں کی موت ہوئی تھی۔ اس حملے میں نو سال کے محمد رامیز بکر، 10-10 سال کے احد عاطف بکر اور ذکریا احد بکر کے ساتھ 11 سال کے اسماعیل محمد بکر کی موت ہوگئی تھی۔

حملے کی مذمت: اس حملے کی دنیا بھر میں مذمت ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ نے اس حملے کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کہا تھا۔

اسرائیل کا موقف: اس عالمی مذمت کا اسرائیلی فوج پر اتنا دباؤ پڑا کہ انھیں اس کی تحقیقات کرانی پڑئیں۔ تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا کہ فوج نے ساحل پر حماس کے جنگجو کی سرگرمی کا اندازہ لگایا تھا اور فوج نے اس غلطی کے لیے افسوس کا اظہار کیا کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غزہ پر ہونے والی بمباری کے بعد کا ایک منظر

2: آٹھ جولائی -26 اگست، 2014: تقریبا 50 دنوں تک اسرائیلی فوج نے غزہ میں مسلسل حملے کیے۔ ان حملوں کے اثرات مندرجہ بالا تصویر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ 25 جولائی کی یہ تصویر وسیع تباہی کا منظر نامہ پیش کر رہی ہے۔

حملے کے پہلے ہی دن اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کے 160 ٹھکانوں پر بمبار طیاروں سے حملہ کیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس حملے میں غزہ میں 5،226 جگہوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق ان حملوں میں 2،104 فلسطینی باشندوں کی موت ہوئی، ان میں 495 بچے اور 253 خواتین شامل تھیں جبکہ زخمی ہونے والوں میں 1462 عام شہری تھے۔

حملے کی مذمت: اقوام متحدہ سمیت دنیا کے کئی ممالک نے فلسطین کے عام شہریوں کی موت پر بہت سے سوالات اٹھائے تھے۔ مصر کے ثالثی کے نتیجے میں 50 دنوں کے بعد حملہ روک دیا گیا تھا۔

اسرائیل کا موقف: اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا کہ آٹھ جولائی اور 31 اگست کے درمیان حماس کے شدت پسندوں نے 4،591 راکٹ داغے، لہذا جوابی کارروائی کے لیے ان کو بھی راکٹ لانچر سے حملے کرنے پڑے۔ ان حملوں میں 66 اسرائیلی فوجیوں کے علاوہ چھ عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملے کے بعد لوگ بے تحاشا بھاگ رہے تھے

3: 14 سے 21 نومبر 2012: اسرائیلی فوج نے نومبر سنہ 2012 کے تیسرے ہفتے میں ہونے والے حملے کو 'آپریشن پلر' کا نام دیا گیا تھا۔ اس حملے میں غزہ پر کئی فضائی حملے کیے گئے تھے۔ اس حملے میں حماس کے ملٹری ونگ کے کمانڈر بھی مارے گئے تھے۔ ان حملوں میں غزہ کے اس وقت کے وزیر اعظم کے دفتر سمیت دوسرے بنیادی ڈھانچوں کو بہت نقصان پہنچا تھا۔

حملے کی مذمت: اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم 'بیت شلوم' کے مطابق ان حملوں میں 167 فلسطینیوں کی موت ہوئی تھی، جس میں 87 عام شہری تھے۔ ان حملوں میں اسرائیل کے دو فوجی اور چار شہریوں کی موت ہوئی تھی۔

اسرائیل کا موقف: اس حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان مارک راگیو نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا تھا ان سرجیکل حملوں کو زیادہ سے زیادہ انسانی ہمدری کی بنیادوں پر رکھنے کی کوشش کی گئی اور یہ حملے جنوبی اسرائیل میں حماس کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے جواب میں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حملے میں تباہ ہونے والا ایک مکان

4: 27 دسمبر -18 جنوری، 2009: دسمبر، 2008 کے آخری ہفتے میں اسرائیلی فوجیوں نے زمینی راستے سے غزہ میں داخل ہو کر آپریشن 'کاسٹ لیڈ' کو انجام دیا تھا۔ اس حملے میں انسانی حقوق کی تنظیم بتسلیم کے مطابق 1391 فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ ان میں تقریباً 759 عام شہری، 344 بچے اور 110 خواتین شامل تھیں۔

اس کارروائی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے مسلسل طبی خدمات میں مخل ہوتے رہے جس کے سبب عام شہریوں کی جانیں گئیں۔ اسرائیلی فوج پر اس مہم میں سفید فوسفورس اور ٹینکوں میں استعمال ہونے والے گولوں کے استعمال کے الزام لگے تھے اور تنقید بھی ہوئي تھی۔

اسرائیل کا موقف: اسرائیل کی جانب سے مسلسل کہا جاتا رہا کہ حماس کے شدت پسند مسلسل راکٹ لانچر سے حملہ کر رہے تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے بھی تسلیم کیا کہ حماس اور دوسرے فلسطیني شدت پسند گروپوں کی جانب سے راکٹ داغنے سے فلسطین کے عام خطرات سے دوچار ہوئے۔

ان فوجی مہمات سے اسرائیلی فوج کی طاقت کا حقیقی اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن اسرائیلی فوج کے دو آپریشن کو آج بھی لوگ مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ آپریشنز 40 سال قبل ہوئے تھے۔ یہ ایک طرح سے شدت پسندوں سے نمٹنے کا حملہ تھا تو اس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوال بھی نہیں اٹھائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسرائیلی ہیلی کاپٹر

5: چار جولائی، 1976: اسرائیلی فوج کے کمانڈوز نے 'آپریشن جوناتھن' نامی مہم میں ایک سو سے زیادہ یرغمالیوں کو بچایا تھا۔ اس معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب 27 جون، 1974 کو اسرائیل سے ایتھنز کے راستے پیرس روانہ ہونے والے ایک مسافر بردار طیارے کو چار شدت پسندوں نے اغوا کر لیا۔ طیارے میں 250 افراد سوار تھے۔ فلسطینی حامی شدت پسند طیارے کو یوگنڈا کے شہر لے گئے۔ 28 جون کو طیارہ انتبے پہنچا تھا۔

یہاں پر شدت پسندوں کے تین ديگر ساتھی آ گئے۔ ان لوگوں نے اسرائیل اور چار دیگر ممالک کی جیل میں بند 53 شدت پسندوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ یوگنڈا کے صدر سے عیدی امین نے بھی شدت پسندوں کا ساتھ دیا اور انھیں ہتھیار اور اپنی فوج کے جوان فراہم کیے۔ یکم جولائی کو بہت سے لوگ رہا بھی کیے گئے، لیکن 100 سے زیادہ یہودی-اسرائیلی یرغمال تھے۔

کسی کو گمان بھی نہیں تھا کہ 2500 میل دور سے اسرائیلی فوج کے تین طیاروں میں سوار 200 کمانڈو انتبے ایئر پورٹ پہنچ جائیں گے۔ محض 35 منٹ کی کارروائی میں انھوں نے ساتوں شدت پسند اور یوگنڈا کے 20 جوانوں کو مار کر اپنے لوگوں کو رہا کرا لیا۔ اس کارروائی میں اسرائیلی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن نتن یاہو کی موت ہوئی تھی۔ موجودہ وزیر اعظم بنيامن نے نتن یاہو جوناتھن کے چھوٹے بھائی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوگانڈا میں لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن نتن یاہو کی یادگار

6: سولہ مئی، 1974: اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپوں پر بم برسائے تھے۔ لڑاکا طیاروں نے جنوبی لبنان کے گاؤں میں بنے سات کیمپوں کو تباہ کر دیا تھا۔

اس حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور 138 افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ لبنان کی سرحد پر آباد مالیٹ میں ایک سو سے زیادہ اسرائیلی سکول کے طالب علموں کو یرغمال بنانے کے بدلے کے طور پر لیا گیا تھا۔

فلسطینی پاپولر ڈیموکریٹک فرنٹ کے تین شدت پسندوں نے 105 طالب علموں سمیت 115 اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا تھا، یہ لوگ اسرائیلی جیلوں میں بند اپنے 23 ساتھیوں کی رہائي کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے اس سکول پر حملہ کیا تھا، جس میں طالب علموں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

اس میں 22 بچوں سمیت کل 25 افراد کو شدت پسندوں نے مار دیا تھا۔ تینوں شدت پسند مارے گئے تھے جبکہ 68 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس کی اگلی صبح اسرائیلی فضائیہ نے شدت پسند کیمپوں پر حملہ کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں