موصل کی جنگ کا حقیقی فاتح ایران ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے اس حد تک پھیل جانے کا ذمہ دار ہلیری کلنٹن کو ٹھہرایا

امریکی صدارتی انتخاب سے قبل ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن سے آخری مباحثے میں رپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ عراق کے شہر موصل میں جاری جنگ کے بعد حقیقی فاتح ایران ہو گا اور اس پر ایران کو امریکہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

جمعرات کو لاس ویگاس کی یونیورسٹی آف نیوادا میں ہونے والے اس آخری مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کو چاہیے کہ وہ ہمیں شکریے کا خط لکھے۔‘

٭ یورپ ڈونلڈ ٹرمپ سے پریشان کیوں؟

٭ ٹرمپ کا صدارتی مباحثے سے پہلے ہلیری کے ڈرگ ٹیسٹ کا مطالبہ

٭ خواتین سے دست درازی کے الزامات ' مکمل طور پر جھوٹے': ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’موصل ہمارے پاس تھا لیکن جب ہم وہاں سے آگئے، جب ہلیری نے وہاں سے سب کو بلا لیا تو ہم موصل کھو بیٹھے۔‘

انھوں نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی کامیابیوں اور پھیلاؤ کی ذمہ داری ہلیری کلنٹن پر عائد کی۔

امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی مذمت بھی کی۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی حریف ہلیری کلنٹن نے کہا کہ عراقی فورسز کی مدد کرنے والی خصوصی افواج نے انھیں ’اعتماد‘ دلایا ہے لیکن وہ اپنی افواج کو زمین پر اتارنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ’یہ امریکی مفادات میں نہیں ہے۔‘

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ دولت اسلامیہ کے لیے خود کو دوبارہ یکجا کرنے میں مشکلات کا سبب ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں دولت اسلامیہ پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔‘ہلیری کلنٹن نے اندرونی طور پر شدت پسندی کو روکنے کے لیے انٹیلجنس کے خاص سمت میں سوچنے پر بھی زور دیا۔‘

تیسرے مباحثے کی میزبانی فاکس نیوز کے صحافی کرس والس کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty/Reuters
Image caption تیسرا اور آخری مباحثہ نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں منعقد ہوا

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ آیا وہ انتخاب کے نتائج کو قبول کریں گے یا نہیں، کیونکہ وہ کئی دنوں سے کہہ رہے ہیں کہ انتخاب میں 'دھاندلی' ہو رہی ہے۔ ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پوتن چاہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بنیں، کیوںکہ ان کی خواہش ہے کہ امریکی صدر کوئی 'پتلہ' ہو۔

اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'میں پوتن کو نہیں جانتا، وہ میرے بارے میں اچھی باتیں کہتے ہیں۔'

ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آخری مباحثے میں اسقاط حمل، گن رائٹس اور روسی صدر ولادی میر پوتن پر بھی گرما گرم بحث ہوئی ہے۔

ہلیری کلنٹن نے ہم جنس پرستوں کے حقوق برقرار رکھنے کا کہا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گن رائٹس کو محفوظ رکھنے کی بات کی۔

بعض اہم ریاستوں میں رائے عامہ کے پولز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت اس انتخاب میں اہم ریاستوں میں ہلیری کلنٹن سے کافی پیچھے ہیں۔

زیادہ تر امریکی ووٹ ڈالنے کے اپنے حق کا استعمال آٹھ نومبر کو کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیسرے مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ موصل کی جنگ کا حقیقی فاتح ایران ہوگا

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ وہ جنوبی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کروائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہاں کچھ برے لوگ موجود ہیں اور ہمیں ان کو نکالنا ہے۔'

ہیلری کلنٹن سے جب ان کی برازیلین بینک کے لیے کی جانے والے تقریر کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انھوں نے تجارت اور سرحد کو کھولنے کے حوالے سے اپنے خواب کا ذکر کیا تھا، تو ہیلری نے جواب میں کہا کہ وہ توانائی کی پالیسی کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف متعدد خواتین کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات اور اس سے متعلق ایک ویڈیو جس میں وہ اپنے ایسے اقدامات کو فخر سے بیان کر رہے ہیں کے سامنے آنے کے بعد سے انھیں مشکلات کا سامنا ہے۔

دونوں امیدواروں کے درمیان اہم بات چیت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو گذشتہ 30 سالوں کو 'انتہائی برے تجربے' سے تشبیہ دی جس کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے اپنا اور ڈونلڈ ٹرمپ کا مکمل موازنہ کیا اور بتایا کہ وہ کہاں کہاں تھیں اور ٹرمپ کہاں تھے۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ جب وہ اسامہ بن لادن کے معاملے میں مدد فراہم کر رہی تھیں اس وقت 'ڈونلڈ ٹرمپ ایک ٹی وی شو کی میزبانی کر رہے تھے۔'

اس آخری مباحثے میں کئی موضوعات پر دونوں امیدواروں کے درمیان انتہائی تحمل اور شائستگی کے ساتھ جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا لیکن جیسے ہی ہلیری کلنٹن نے وکی لیکس کے بارے میں کیے جانے والے سوال کا رخ موڑ کر ڈونلڈ ٹرمپ پر روس اور ولادی میر پوتن کے ساتھ تعلقات کا کہہ کر حملہ کیا تو ٹرمپ میدان میں کود پڑے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو جھوٹا کہا جس پر ہلیری نے انھیں پتلا کہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں امیداروں کے طیارے لاس ویگاس ایئر پورٹ پر آمنے سامنے کھڑے تھے

مباحثے کے دوران جب 'صدر کے عہدے کے لیے موزوں' پر بات ہوئی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جن خواتین نے ان پر جنسی طور پر حراساں کرنے کے الزامات لگائے ہیں وہ صرف شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

انھوں نے میڈیا پر لوگوں کے ذہنوں میں زہر بھرنے کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ ہلیری کلنٹن کو صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔

امریکی صدر براک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی انتخاب میں دھاندلی کی منصوبہ بندی کے بارے میں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گذشتہ روز کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بہانے بنانا بند کریں۔

یاد رہے کہ امریکہ میں صدارتی امیدواروں ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دوسرا مباحثہ واشنگٹن یونیورسٹی میں ہوا جس میں ہلیری کلنٹن کی ای میلز، شام و عراق کے متعلق امریکی پالیسی،امریکی معیشت اور ذاتی کردار پر بات چیت کی گئی تھی۔

اسی بارے میں