شام: انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر حلب میں عارضی جنگ بندی کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شامی حکومت نے روس کی مدد سے گذشتہ ماہ باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بمباری کی تھی

شام کے شہر حلب پر روس کی جانب سے اعلان کردہ 'انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی میں عارضی وقفے' کا آغاز ہو گیا ہے جس کا مقصد وہاں سے عام شہریوں اور باغیوں کا انخلا ہے۔

اس سے قبل ماسکو نے کہا تھا کہ حلب پر روس اور شامی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں میں دو روز کے لیے عارضی وقفہ کیا گیا تھا۔

حلب پر بمباری، 'شام اور روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں'

جان کیری کی شام میں قیام امن کے لیے جرمنی اور فرانس کے وزرا سے ملاقات

امریکہ اور روس کی جانب سے شام میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا آغاز

حلب میں جنگ بندی کے عارضی وقفے میں تین گھنٹوں کی توسیع کی گئی تھی تاہم جہادی گروپ نے باغیوں کے زیرِ قبضہ حلب کے مشرقی حصوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ شامی حکومت نے روس کی مدد سے گذشتہ ماہ باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بمباری کی تھی۔

لندن سے کام کرنے والی حقوقِ انسانی کی شامی تنظیم 'سیرئن آبزرویٹری آف ہیومن رائٹس' کا کہنا ہے کہ حالیہ بمباری میں اب تک 2700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مغربی رہنماؤں نے تجویز دی ہے کہ حلب پر روسی اور شامی فضائی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا جا سکتا ہے۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے بدھ کو رات گئے روس کے صدر ویلادیمر پوتن اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اپنے دعوے کو دوہرایا۔

اس موقع پر انگیلا میرکل نے حلب پر کی جانے والی فضائی کارروائی کو 'غیر انسانی' قرار دیا۔

دریں اثنا روس نے مغرب کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ویلادیمر پوتن کا کہنا ہے کہ یہ الزامات 'جذباتی' ہیں۔

روسی فوج کے مطابق آٹھ گھنٹے کی مجوزہ جنگ بندی میں تین گھنٹوں کی توسیع کی جائے گی۔

روس کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عام شہریوں کے علاوہ، بیمار اور زخمی افراد کا حلب سے انخلا ہے۔

شام میں گذشتہ ماہ ہونے والے جنگ بندی چند روز ہی قائم رہی جس کے بعد شام فوج نے روس کی مدد سے حلب میں باغیوں کے خلاف دوبارہ حملے شروع کیے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں