آخری صدارتی مباحثہ کس کے ہاتھ رہا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے جلد ہی ہیلری کلنٹن کو جھوٹی اور 'گھناؤنی خاتون' کے القابات سے نوازنا شروع کر دیا

یہ مباحثہ شاید وہ مباحثہ تھا جس کی خواہش ڈونلڈ ٹرمپ رکھتے تھے، لیکن یہ وہ چیز نہیں تھی جس کی انھیں ضرورت تھی۔

جہاں یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے قوم کو یہ بتانے کا آخری موقع تھا کہ قوم بطور صدر ان پر اعتماد کر سکتی ہے، وہاں ان کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حمایت میں اضافہ کریں۔

کسی طرح انھیں خود کو اس الزام سے بری کروانا تھا کہ وہ ماضی میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرتے رہے ہیں۔

انھیں خود کو ایک رہنما کے طور پر پیش کرتا تھا جو ملک میں تبدیلی کا خواہاں ہو۔ خاص طور پر فوکس ٹی وی کے اس جائزے کے بعد کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے مقابلے میں ہیلری کلنٹن زیادہ تبدیلی لائیں گی، ٹرمپ کے لیے یہ مزید ضروری ہو گیا تھا کہ وہ عوام کے اس خیال کو تبدیل کریں اور انھیں بتائیں کہ تبدیلی کے بڑے علنبردار وہ ہیں، نہ کہ کلنٹن۔

لیکن ایسا ہو نہ سکا اور مباحثہ شروع ہونے کے آدھے گھنٹے بعد ہی وہ ڈونلڈ ٹرمپ سامنے آنا شروع ہو گئے جو اپنے حقیقی اور خود ساختہ دشمنوں کو لتاڑنے کے لیے مشہور ہیں۔ محض پہلے تیس منٹ ہی ایسے تھے جن میں سپریم کورٹ، بندوق رکھنے کے حق، اسقاطِ حمل اور تارکین وطن کی امریکہ آمد جیسے بڑے موضوعات زیر بحث آئے۔

اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ نے جلد ہی ہیلری کلنٹن کو جھوٹی اور 'گھناؤنی خاتون' کے القابات سے نوازنا شروع کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مباحثے میں کئی لمحات ایسے بھی آئے جب مسز کلنٹن کو بھی دفاعی انداز اپنانا پڑا

مسٹر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ خواتین جو ان پر دست درازی جیسے الزامات لگا رہی ہیں، وہ محض توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں یا وہ ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم میں مُہروں کا کام دے رہی ہیں۔

مسٹر ٹرمپ کے بقول میڈیا عوام کے 'ذہنوں میں زہر' گھول رہا ہے۔ اور خاص طور پر انھوں نے یہ اقرار نہیں کہ کہ اگر وہ انتخابات ہار جاتے ہیں تو نتائج تسلیم کریں گے یا نہیں۔

دوسری جانب مباحثے میں کئی لمحات ایسے بھی آئے جب مسز کلنٹن کو بھی دفاعی انداز اپنانا پڑا۔ اپنی ای میلز، کلنٹن فاؤنڈیشن اور وکی لیکس میں منظر عام پر آنے والی ایسی تقصیلات جن پر مسز کلنٹن کو خفت اٹھانا پڑی تھی، ایسے موضوعات تھے جن پر انھیں دفاعی حکمت عملی پر مجبور ہونا پڑا۔

لیکن اس مباحثے میں ایک فرق بہرحال نظر آ رہا تھا، اور وہ یہ کہ ہیلری کلنٹن نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور وہ بڑی کامیابی سے گفگتو کو واپس اُن موضوعات کی جانب لاتی رہیں جن پر ان کی گرفت مضبوط تھی۔

بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مسز کلنٹن کی 'پیری اینڈ سٹرائیک' کی تکنیک بہت کامیاب رہی، یعنی مباحثے میں جب مخالف حملہ کرے تو اس کے تیر کی راہ سے ہٹ جاؤ اور پھر جب موقع ملے مخالف پر کاری ضرب لگاؤ۔

اگر آپ پوچھیں کہ اس مباحثے کی سب سے اہم بات کیا تھی، تو وہ بات یقیناً یہ تھی کہ مباحثے میں مسٹر ٹرمپ اپنے اس دعوے سے پیچھے نہیں ہٹے کہ انتخابات میں انھیں 'دھاندلی' سے ہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہی وہ بات تھی جو مسٹر ٹرمپ اس مباحثے میں لوگوں سے کہنا چاہتے تھے، لیکن یہ بات امریکی عوام، یا امریکی جمہوریت سننا نہیں چاہتی۔

اس مباحثے میں مسز کلنٹن کی یہ تکنیک کہ وہ مشکل سوالات سے بچ کر مسٹر ٹرمپ کو ان موضوعات پر لائیں جن پر ٹرمپ کمزور ہیں، پہلی باراس وقت سامنے آئی جب میزبان کرس والس نے کلنٹن کو وکی لیکس میں افشا ہونے والا مسز کلنٹن کا یہ بیان سنایا کہ وہ آزادانہ تجارت اور تارکین وطن کی بلا روک و ٹوک امریکہ آمد کی قائل ہیں۔

مسز کلنٹن کی توجیح یہ تھی کہ انھوں نے تو صرف ایندھن کی مارکیٹ کی بات کی تھی، باقی تجارت کی نہیں۔ اور پھر انھوں نے اس موضوع کو اس بحث میں بدل دیا کہ آیا مسٹر ٹرمپ روسی حکومت کے ساتھ بات چیت اس وجہ سے چھوڑ دیں گے روس نے امریکہ پر سائبر حملہ کیا تھا۔

اس کے جواب میں مسٹر ٹرمپ کہ وہ مسٹر پوتن سے کبھی بھی نہیں ملیں گے۔ (وہ یہ بھول گئے کہ انتخابی مہم میں وہ اقرار کر چکے ہیں کہ انھوں نے روسی صدر سے بات کی تھی)۔

پھر فوراً ہی ٹرمپ نے مسز کلنٹن کو جھوٹی اور روس کی 'کٹھ پتلی' کہہ دیا۔

اسی بارے میں