روس نے حلب میں عارضی جنگ بندی میں مزید 24 گھنٹے توسیع کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ ماہ حلب میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں لڑائی میں 2700 افراد ہلاک ہوئے تھے

روس نے شام کے شہر حلب میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر‘ جنگ بندی میں عارضی وقفے میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کی ہے جس کے بعد حلب میں فضائی کاروائیاں جمعے کی سہ پہر تک بند رہیں گی۔

٭ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر حلب میں عارضی جنگ بندی کا آغاز

روس کے وزیر دفاع نے کہا کہ صدر پوتن نے جنگ بندی میں جمعے کی شام چار بجے تک کی توسیع کرنے کا حکم دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ بندی کی مہلت ختم ہونے سے قبل سینکڑوں بیمار خواتین شورش زدہ علاقوں سے باہر نکل سکیں گی۔

دوسری جانب باغیوں نے اس جنگ بندی کو مسترد کیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں سے لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ کچھ افراد شہر سے باہر بھی نکلے ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگے لاروف نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند ’عام افراد کے شہر سے انخلا کو رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔‘

دوسری جانب یورپی ملک بیلجیئم نے روس سے کہا ہے کہ فضائی بمباری میں عام شہریوں کی ہلاکت کا الزام واپس لیا جائے۔

روس نے کہا تھا کہ شام کے کرد علاقوں میں بیلجیئم کے دو لڑاکا طیاروں کی فضائی بمباری میں چھ عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ شام اور روس کی حکومتوں نے رواں ہفتے حلب میں اعلان کردہ 'انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی میں عارضی وقفے' پر اتفاق کیا تھا۔ جس کا مقصد وہاں سے عام شہریوں اور باغیوں کا انخلا ہے۔

جنگ بندی میں اس عارضی وقفے کے دوران شہریوں کے انخلا کے لیے آٹھ راستے بنائے گئے ہیں۔ روس کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عام شہریوں کے علاوہ، بیمار اور زخمی افراد کا حلب سے انخلا ہے۔

روسی فوج کے مطابق آٹھ گھنٹے کی مجوزہ جنگ بندی میں تین گھنٹوں کی توسیع کی جائے گی۔

شام میں گذشتہ ماہ ہونے والے جنگ بندی چند روز ہی قائم رہی جس کے بعد شام فوج نے روس کی مدد سے حلب میں باغیوں کے خلاف دوبارہ حملے شروع کیے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حلب میں بمباری کے آغاز سے اب تک تقریباً 2700 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ڈھائی لاکھ شہری لڑائی کی وجہ سے شہر میں محصور ہو گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں