جنوبی افریقہ کی انٹرنیشنل کریمینل کورٹ سے علیحدگی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے جنوبی افریقہ کے آئی سی سی سے اخراج کے فیصلے پر تنقید کی ہے

ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی افریقہ کی جرائم کی بین الاقوامی عدالت سے علیحدگی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

جنوبی افریقہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جرائم کی بین الاقوامی عدالت کے افریقی ممالک سے معتصبانہ رویے کے بارے میں اقوام متحدہ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔

گذشتہ سال جنوبی افریقہ نے نسل کشی اور جنگی جرائم میں آئی سی سی کو مطلوب سوڈانی صدر عمر البشیر کو گرفتار کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اُن کی گرفتاری کا مطالبہ اُس وقت کیا گیا تھا جب سوڈانی صدر افریقی یونین کے اجلاس میں شرکت کے لیے جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں موجود تھے۔

صدر بشیر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سوڈان کے شورش زدہ مغربی علاقوں میں ظلم و زیادتی ختم کرنے کے لیے پرعزم تھے۔

ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ’اخراج سے متعلق‘ دستاویز‘ کی کاپیاں موجود ہیں جن پر جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ کے دستخط ہیں۔

جنوبی افریقہ اور اقوام متحدہ دونوں نے ذرائع ابلاغ کی خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

جرائم کی بین الاقوامی عدالت سے اخراج کے بارے میں جنوبی افریقہ میں قانونی ماہرین کی آرا میں بھی اختلاف ہے۔ بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ پارلیمان کی منظوری کے بغیر آئی سی سی سے خارج نہیں ہو سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے جنوبی افریقہ کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

یاد رہے کہ جنوبی افریقہ نے آئی سی سی سے اخراج کا اقدام صدر جیکب زوما کے کینیا کے دورے سے واپسی کے بعد کیا ہے۔ جرائم کی بین الااقومی عدالت نے کینیا کے صدر کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔

کینیا کے صدر نے خود پر عائد الزامات کو مسترد کیا تھا اور بعد میں ناکافی شواہد کی وجہ سے سماعت ختم کر دی گئی تھی۔

اس سے پہلے افریقی ممالک کی تنظیم افریقی یونین نے رکن ممالک پر زور دیا تھا کہ آئی سی سی کے متعصبانہ رویے کی وجہ سے اُن کے ساتھ تعاون نہ کیا جائے۔

آئی سی سی کے رکن ممالک کی تعداد 124 ہے اور یہ پہلا قانونی فورم ہے جہاں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات سنے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں