عراق: کرکوک میں دولتِ اسلامیہ کے سرکاری عمارتوں پر حملے

عراق، کرکوک، پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراقی میڈیا کے مطابق خود کش بمباروں نے پولیس سٹیشنز اور ایک بجلی گھر پر حملہ کیا ہے تاہم سکیورٹی فورسز نے اسے پسا کر دیا ہے

عراق میں مقامی میڈیا کے مطابق مسلح افراد نے کرکوک شہر میں حکومتی عمارتوں پر دھاوا بول دیا ہے۔

عراقی میڈیا کے مطابق خود کش بمباروں نے پولیس سٹیشنز اور ایک بجلی گھر پر حملہ کیا تاہم سکیورٹی فورسز نے اسے پسا کر دیا ہے۔

’موصل آپریشن توقع سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاری ہے‘

عراقی فوج کے حملے سے قبل موصل سے سینکڑوں شہری فرار

خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے ٹاؤن ہال پر حملہ کر کے ایک ہوٹل کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب عراقی افواج موصل کو دولت اسلامیہ سے واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے جمعرات کو موصل کے جنوب میں واقع ایک کیمیکل پلانٹ کو آگ لگا دی۔

ذرائع کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے عراق افواج کی جانب سے انھیں موصل سے باہر نکالنے کے دوران الامشرق نامی کیمیکل پلانٹ کو جان بوجھ کر آگ لگائی۔

عراق کے میڈیا کے مطابق اس واقعہ کے بعد کرکوک میں کرفیو نافد کر دیا گیا ہے۔

مقامی ٹی چینل پر دکھئے جانے والے فوٹیج میں شہر میں کالا دھواں دیکھا جا سکتا ہے۔

بیروت کے ال صوماریہ نامی اخبار کے مطابق جمعرات کی صبح ہونے والے حملے کے بعد پولیس نے ایک خود کش بمبار کو ہلاک کر دیا جب کہ باقی تینوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

کرکوک کے ضلع پولیس سربراہ بریگیڈیئر سرحد قادر نے اخبار کو بتایا کہ اب صورت حال قابو میں ہے۔

کرکوک بغداد سے 290 کلومیٹر شمال میں ہے۔ یہ شہر عراق کے شمال میں تیل کی صنعت کا اہم مرکز ہے اور اس کی آبادی میں کرد، عرب، عیسائی اور ترکمان شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں