لندن میں سٹی ایئرپورٹ پر ’کیمیائی‘ کارروائی کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لندن کا سٹی ایئرپورٹ شہر کا قدرے چھوٹا ہوائی اڈہ ہے اور یہاں سے زیادہ تر پروازیں برطانیہ کے دیگر شہروں یا یورپ جاتی ہیں۔

برطانیہ کے شہر لندن میں لندن سٹی ایئرپورٹ پر ایک مشتبہ کیمائی واقعے کے باعث ہوائی اڈے کو سنیچر کی دوپہر عاضی طور پر خالی کروا لایا گیا تھا۔

اس واقعے کی وجہ سے تقریباً 500 افراد کو ایئر پورٹ سے نکالا گیا تاہم تقریباً تین گھنٹے کے بعد ہوائی اڈے کو بحال کر دیا گیا۔

مختلق مسافروں کی جانب سے سانس لینے میں مشکل کی شکایت کے بعد 26 افراد کو ابتدائی طبی امداد کی ضرورت پڑی اور دو افراد کو ہسپتال لے جایا گیا۔

بحالی کے بعد لندن گائر برگیڈ کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈے میں معمول سے زیادہ کیمیائی ریڈنگز نہیں ملیں۔ محکمے کی جانب سے جاری کروہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور آگ بجھانے والے عملے نے دو مرتبہ مکمل ہوائی اڈے کا جائزہ لیا ہے اور ہوائی اڈے کی عمارت کے اندر ہوا کو تازہ بھی کر دیا گیا ہے۔

مسافروں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ہوائئ اڈہ بند کیے جانے کی وجہ سے متعدد پروازوں کو مشکلات یا تاخیر کا سامنا ہوگا۔

ہوائی اڈے کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مسافروں کو نکالنے کا عمل اس وقت شروع کیا گیا جب ایک فائر الارم بج گیا تھا۔

ایک مسافر، 28 سالہ ڈیوڈ مورس نے بتایا کہ وہ برٹش ایئرویز کی ایڈنبرہ جانے والی پرواز پر سوار ہونے والے تھے جب وہ شدید کھانسنے لگے۔

انھوں نے بتایا ’ہم قطار بنا کر اپنا سامان جمع کروانے والے ہی تھے کہ مجھے اس قدر کھانسی آنے لگی کہ میں کسی سے بات نہیں کر سکتا تھا۔‘

’ساتھ ہی ساتھ اور لوگ بھی کھانسنے لگے اور ہوائی اڈے کا عملہ سب سے زیادہ کھانسنے لگا۔ چند ہی منٹ میں ہمیں ہوائی اڈہ خالی کرنے کے لیے کہا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ہوائی اڈے کی عمارت کے اندر ہوا میں اگر کچھ بھی تھا تو اس کی نہ کوئی بو تھی اور نہ ہی کوئی رنگ۔