امریکی صدارتی انتخاب: ٹرمپ کی خاتون اوّل پر تنقید

مشیل اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters/Getty Images
Image caption مشیل اوباما کے ایک جملے کو لے کر ریپبلکن امیدوار نے مسز کلنٹن کو تنقید کا نشانہ بنایا

امریکہ میں رپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے خاتون اول مشیل اوباما کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ ان کی حریف کے لیے مہم چلانا چاہتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مشیل اوباما پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس چلانے کے معاملے میں ہیلری کلنٹن کی صحت پر سوال اٹھایا تھا۔

٭ ٹرمپ کا انتخابی نتائج کے بارے میں بیان 'خطرناک' ہے: براک اوباما

٭ امریکی صدارتی انتخاب 2016: 'ٹرمپ بہانے بازی بند کریں'

گذشتہ انتخاب میں اوباما کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم نے اس بات کی تردید کی تھی کاور کہا تھا کہ مشیل کا اشارہ مسز کلنٹن کی جانب نہیں تھا۔

دریں اثنا مسز کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ پر'جمہوریت کو خطرات سے دو چار کرنے' کا الزام لگایا ہے۔

ہلیری کلنٹن نے امریکی ریاست اوہایو کے شہر کلیولینڈ میں مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: 'ہمیں قیادت اور آمریت کا فرق معلوم ہے اور اقتدار کی پرامن منتقلی ہمیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہنے سے انکار کیا ہے کہ وہ انتخابات کے نتائج کو تسلیم کریں گے۔ ایسا کر کے وہ ہماری جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔'

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا: 'ہمیں معلوم ہے کہ (مشیل اوباما) ہلیری کو کتنا پسند کرتی ہیں۔ کیا انھوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اگر آپ اپنے گھر کی دیکھ بھال نہیں کر سکتیں تو پھر آپ وائٹ ہاؤ‎س یا ملک کی دیکھ بھال کیسے کریں گی؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسز کلنٹن اوہایوں میں اپنی انتخآبی مہم میں سرگرم ہیں

نیویارک میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اُن اشارہ اس جملے کی جانب تھا، جو مسز اوباما نے سنہ 2007 میں ہلیری کلنٹن کے خلاف اپنے شوہر کی انتخابی مہم کے دوران ادا کیا تھا۔

مشیل اوباما نے کہا تھا: 'اگر آپ اپنا گھر نہیں چلا سکتے تو آپ وائٹ ہاؤس تو بالکل ہی نہیں چلا سکتے۔'

بعض ناقدین نے یہ سوال کیا تھا کہ آیا یہ بیان ہلیری کلنٹن کے اُن کے شوہر بل کلنٹن کے ساتھ تعلقات کے بارے میں تو نہیں تھا۔

لیکن اوباما کی مہم چلانے والی ٹیم نے کہا تھا کہ اس کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں۔

مسز اوباما نے سنہ 2007 میں اپنے اسی خطاب میں مزید کہا تھا: 'اس طرح ہم اپنے کام کو ترتیب دیتے ہیں جس میں پہلے ہماری بچیاں آتی ہیں۔ جب وہ سفر کر رہے ہوتے ہیں تو میں دن میں دورہ کرتی ہوں۔ یعنی میں صبح اٹھتی ہوں۔ بچیوں کو تیار کرتی ہوں، انھیں روانہ کرتی ہوں اور پھر اپنا دورہ کرتی ہوں اور سونے سے قبل گھر واپس آ جاتی ہوں۔

خیال رہے کہ نیویارک میں آلفریڈ ای سمتھ میموریل فاؤنڈیشن کے عشائیے کے بعد مسٹر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم پر واپس آ گئے ہیں۔

لیکن آلفریڈ ای سمتھ پنجم نے سی این این کو بتایا کہ مسٹر ٹرمپ نے 'حدِ ادب پار کی‘ اور وہاں موجود لوگ 'قدرے بے چینی محسوس کر رہے تھے۔'

اسی بارے میں