خفیہ آپریشن کے ’بادشاہ‘ کو پندرہ ماہ قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Met Police/PA
Image caption پنے ساتھیوں میں ماز کے نام سے جانے والے صحافی مظہر محمود کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 100 مجرموں کو سزا دلوانے میں مدد فراہم کی ہے

پاکستانی کرکٹروں کےخلاف سپاٹ فکسنگ کے سکینڈل کو سامنے لانے والے صحافی مظہر محمود کو لندن کی ایک عدالت میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش کرنے کے جرم میں پندرہ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مختلف برطانوی اخباروں سے منسلک رہنے والے تحقیقاتی صحافی مظہر محمود پر الزام تھا کہ انھوں نے 2014 میں پاپ سنگر ٹُلیسا کونٹوسٹاولوس کے خلاف ایک مقدمے میں شہادتی بیان میں رد و بدل کی سازش کی تھی۔

مظہر محمود اور ان کے ڈرائیور ایلن سمتھ پر لندن کی اولڈ بیلی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور ان دونوں کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

مظہر محمود کی سزا کااعلان کرتے ہوئے جج جیرالڈ گورڈن نے کہا کہ وہ اپنی شہرت میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔

عدالت نے مظہر محمود کے ڈرائیور ایلن سمتھ کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ البتہ ایلن سمتھ کی سزا کو دو سال کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

عدالت کی جانب سے مظہر محمود کو سزا سنائے جانےکے فوراً بعد نیوز یوکے نے جو سابقہ نیوز آف دی ورلڈ کا نیا نام ہے، مظہر محمود کو ملازمت سے برخاست کر دیا ہے۔

مظہر محمود گذشتہ پچیس برسوں سے اس ادارے سے منسلک تھے۔

نیوز یو کے کمپنی کے ترجمان نے کہا ہے کہ مظہر محمود کے سابقہ کام کی بنیاد پر دائر ہونےوالے مقدموں کا بھر پور دفاع کیا جائے گا۔

مظہر محمود کو جیوری کی طرف سے مجرم قرار دیئے جانے کے بعد وکلا نے کہا تھا کہ اٹھارہ ایسے افراد جن کے بارے میں مظہر محمود نے ماضی میں خبریں دی تھیں وہ ان کے خلاف مجموعی طور 800 ملین پونڈ کے ہرجانے کے مقدمات دائر کرنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

مس کونٹوسٹاولوس کے وکیل بین روز کے مطابق تحقیقاتی صحافیوں نے اہم کام کیا ہے ’لیکن محمود واضح طور پر بہت آگے چلے گئے تھے‘۔

’اس کیس میں اصل سکینڈل یہ ہے کہ محمود کو مکمل طور بغیر کسی نگرانی کے پولیس فورس کا کام کرنے دیا گیا کہ وہ جرائم کی ’تفتیش‘ کریں لیکن ان پر وہ قدغنیں نہ ہوں جن کا پولیس پر اطلاق ہوتا ہے۔‘

اولڈ بیلی میں شروع ہونے والے مقدمے میں عدالت کو بتایا گیا کہ مس کونٹوسٹاولوس کو اپنے آپ کو 'خفیہ آپریشن کا بادشاہ' کہنے والے صحافی نے نشانہ بنایا۔ انھوں نے اپنے آپ کو ایک بااثر فلمساز دکھایا جو پاپ سنگر کو ایک بڑی ہالی وڈ میں ایک مرکزی رول دینا چاہتا ہے۔

مس کونٹوسٹاولوس پر الزام تھا کہ انھوں نے مظہر محمود کے لیے 800 پاؤنڈ کے عوض آدھا اونس کوکین کا بندوبست کیا تھا۔

اخبار میں خبر چھاپنے کے بعد مظہر محمود نے متعلقہ مواد پولیس کو فراہم کیا تھا جس کی بنیاد پر ٹلیسا کو اے کلاس ڈرگ سپلائی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

مظہر محمود اور ایلن سمتھ پر الزام ہے کہ انھوں ایلن سمتھ کے پولیس کو دیئے گئے ایک بیان میں اس بنیاد پر تبدیلی کی کوشش کی تھی کیونکہ اس سے ٹلیسا کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔

مسٹر سمتھ نے پولیس کو بتایا تھا کہ کو کین کے بارے میں ٹلیسا کا رویہ بظاہر منفی تھا لیکن ایک دن بعد انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے بیان کا وہ حصہ واپس لینا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ JULIA QUENZLER

استغاثہ کا کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹے کے اندر مسٹر سمتھ نے پولیس کو دیئے گئے اپنے انٹرویو کی کاپی مظہر محمود کو بھیجی تھی اور ان کے ساتھ ان کی ٹیکسٹ میسجوں اور فون پر کئی مرتبہ رابطہ ہوا تھا۔

مقدمے کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے استغاثہ کی وکیل سارہ فورشا نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہو سکتا ہے مظہر محمود خفیہ آپریشن کے ماہر ہوں لیکن اس کیس میں خود ان کا پول اپنے ملازم سمیت کھل گیا ہے۔

اپنے ساتھیوں میں ماض کے نام سے جانے والے صحافی مظہر محمود کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 100 مجرموں کو سزا دلوانے میں مدد فراہم کی ہے۔

یاد رہے کہ 2011 مظہر محمود ہی پاکستان کرکٹروں محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کے خلاف سپاٹ فکسنگ کا کیس سامنے لائے تھے جس کی بنیاد پر ان کے خلاف نہ صرف پابندی لگی تھی بلکہ انہیں جیل بھی جانا پڑا تھا۔

اسی بارے میں