شام کے شہر حلب میں جنگ بندی کے خاتمے پر شدید جھڑپیں

حلب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام اور روس کی حکومتوں نے گذشتہ ہفتے حلب میں اعلان کردہ 'انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی میں عارضی وقفے' پر اتفاق کیا تھا

شام کے شہر حلب میں تین دن کی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سنیچر کو رات گئے ایک بار پھر شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

شام میں باغیوں کے خلاف شامی حکومت کی کارروائی میں مدد کرتے ہوئے روس باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں فضائی حملے کر رہا ہے اور اس نے 'انسانی ہمدردی کی بنیاد پر' جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس میں جمعے کو مزید 24 گھنٹے کی توسیع بھی کی گئی تھی۔

شام کے ایک نگراں ادارے کے مطابق سنیچر کی رات ہونے والی اس لڑائی کے دوران فضائی حملے بھی کیے گئے۔

خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ جنگ کے دوران بھی حلب کے محصور علاقوں تک انسانی امداد نہیں پہنچائی جا سکی۔

نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ سنیچر کو کیے جانے حملے میں شہر کے جنوب مغربی حصوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں باغیوں اور حکومتی فورسز میں لڑائی جاری ہے۔

حلب کے مقامی اسماعیل عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ بندی کے ختم ہوتے ہی انہوں نے دیکھا کہ حلب میں بمباری ہوئی اور سنائپرز نے بھی لوگوں کو نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/ GETTY
Image caption حلب میں بمباری کے آغاز سے اب تک تقریباً 2700 افراد ہلاک ہوئے ہیں

جمعے کو اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ سلامتی کی یقین دہانی نہ ہونے کے سبب شہر میں موجود بیمار یا زخمی افراد کو نکالے جانے کے منصوبے پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔

یاد رہے کہ شام اور روس کی حکومتوں نے گذشتہ ہفتے حلب میں 'انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی میں عارضی وقفے' پر اتفاق کیا تھا۔ جس کا مقصد وہاں سے عام شہریوں اور زخمی افراد کا انخلا تھا۔ جنگ بندی میں اس عارضی وقفے کے دوران شہریوں کے انخلا کے لیے آٹھ راستے بنائے گئے تھے۔

تاہم بتایا گیا ہے کہ لوگ شہر سے باہر نہیں نکل سکے۔ ایک باغی گروہ کے اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’بہت کم لوگوں نے شہر چھوڑنے کی کوشش کی تو انہیں ارد گرد کے علاقوں میں شیلنگ کا سامنا کرنا پڑا اور وہ باہر نہیں نکل سکے۔‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حلب میں بمباری کے آغاز سے اب تک تقریباً 2700 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ڈھائی لاکھ شہری لڑائی کی وجہ سے شہر میں محصور ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں