کرد پیشمرگہ کا بعشیقہ کو گھیرے میں لینے کا دعویٰ

بعشیقہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرد پیشمرگہ کمانڈرز نے بعشیقہ قصبے کو گھیرے میں لینے کا دعوی کیا ہے

عراق میں دولتِ اسلامیہ کے آخری گڑھ موصل کی جانب جاری پیش قدمی میں شامل کرد پیشمرگہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر کا کہنا ہے کہ انھوں نے موصل کے شمال مشرق میں واقع قصبے بعشیقہ کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا ہے۔

کرد جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے بعشیقہ کی جانب جانے والے تمام راستوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب عراقی حکومت نے بعشیقہ کے لیے جاری لڑائی میں ترکی کی شمولیت کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔

بعشیقہ موصل کی جانب نقل و حرکت کے لیے استعمال کی جانے والی اہم شاہراہ پر واقع ہے اور اتوار کے روز بعض ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کرد فورسز بعیشقہ میں داخل ہوگئی ہیں۔

کرد پیشمرگہ کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر پیش قدمی کی ہے اور ہائی وے کا ایک بڑا حصہ آزاد کروا لیا ہے جس کی وجہ سے دولتِ اسلامیہ کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرد جنگجوؤں نے آٹھ دیہاتوں کا گھیراؤ کر کے دولتِ اسلامیہ کے درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا

اتوار کو ترکی نے بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں شمولیت اختیار کی ہے جس کے بعد اس نے بعشیقہ میں جہادیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔

اس سے پہلے سنیچر کو عراقی وزیرِ اعظم نے ترکی کی جانب سے مداخلت کی پیش کش مسترد کر دی تھی۔

کرد جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے آٹھ دیہات کا گھیراؤ کر کے دولتِ اسلامیہ کے درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے جس کی وجہ سے موصل کے لیے دولتِ اسلامیہ کی رسد کی صلاحیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔

عراق میں امریکہ کے اعلیٰ کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سٹیفن ٹاؤنسینڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ اتوار کو بعشقیہ میں کی گئی کارروائی میں 'قابلِ ذکر کامیابی' حاصل ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اتحادی افواج موصل میں دولتِ اسلامیہ کو مسلسل پیچھے دھکیل رہی ہیں

تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ 'مجھے تاحال ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ یہاں ہر گھر سے داعش کا جنگجو ختم کر دیا گیا ہے اور سڑک کنارے لگا ہر بم ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔'

تاحال صحافیوں کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک فوٹیج میں ایک قریبی دیہات سے لیے گئے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعشقیہ سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔ کرد جنگجوؤں نے لڑائی کے دوران مارٹر گولوں اور مشین گنوں کا استعمال کیا۔

اتحادی افواج موصل میں دولتِ اسلامیہ کو مسلسل پیچھے دھکیل رہی ہیں۔ پیش مرگہ کے کمانڈرز کا کہنا ہے کہ انھوں نے نو کلو میٹر تک پیش قدمی کی ہے۔

اتوار کو ترک فوج نے بھی عسکریت پسندوں کے خلاف ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ ترکی کا کہنا ہے کہ کرد جنگجوؤں نے ان سے مدد طلب کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنیچر کو عراقی وزیرِ اعظم نے ترکی کی جانب سے مداخلت کی پیش کش مسترد کر دی تھی

ترک وزیرِ اعظم نے ٹیلی وژن پر کہا تھا کہ 'بعشقیہ کے علاقے کو دولتِ اسلامیہ سے پاک کرنے کے لیے پیشمرگہ کو حرکت دی گئی ہے۔'

'انھوں نے ہمارے فوجیوں سے مدد کے لیے کہا اس لیے ہم انہیں گولہ بارود فراہم کر رہے ہیں۔'

بعشقیہ اس فوجی اڈے کے قریب واقع ہے جہاں ترک فوجی سنی مسلمان جنگجوؤں (عرب اور کرد دونوں) کی تربیت کرتے ہیں۔'

اسی بارے میں