ترکی کے عزائم موصل کی جنگ کو پیچیدہ کر دیں گے؟

عراقی رہنما تصویر کے کاپی رائٹ Inpho
Image caption فریقین نے موصل کی جنگ کے مستقبل اور اس کے عراق پر پڑنے والے اثرو رسوخ اور شمالی عراق کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں

عراقی افواج کی جانب سے موصل کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے آزاد کروانے کے لیے کارروائی جاری ہے، تاہم شیعہ اکثریتی عراقی حکومت اور ترکی نے اس حوالے سے نئی فالٹ لائنز کو کھولنے کی دھمکی دی ہے جس سے یہ آپریشن مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

فریقین نے موصل کی جنگ کے مستقبل اور عراق پر اس کے اثرات اور شمالی عراق کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

عراق میں دولت اسلامیہ کے جوابی ہتھکنڈے

عراق: کرکوک میں دولتِ اسلامیہ کے سرکاری عمارتوں پر حملے

’موصل آپریشن توقع سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاری ہے‘

موصل آپریشن کے آغاز ہی سے ترکی نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے بارے میں خواہش ظاہر کرنا شروع کر دی ہے۔

عراقی حکومت نے ترکی کی ان کوششوں کی مخالفت کی ہے جبکہ امریکہ بھی سفارتکاری کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ان دونوں ممالک کے تحفظات موصل آپریشن کو متاثر نہ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی حکومت نے ترکی کی ان کوششوں کی مخالفت کی ہے جب کہ امریکہ بھی ڈپلومیسی کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے تحفظات موصل آپریشن کو متاثر نہ کریں

امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے عراق کے حالیہ دورے کے دوران اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ 'عراقی خود مختاری کا پورا پورا احترام کیا جائے گا۔' یہ پیغام واضح طور پر ترکوں کو دیا گیا تھا۔

ترکی کی عراق میں دلچسپی بہت پیچیدہ ہے۔ یہ دلچسپی اسٹریٹجک خدشات، اندرونی سیاست، اور عثمانی دور کی پرانی یادوں کا ایک مرکب ہے۔

عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے عروج نے اسے اور کمزور کر دیا ہے اور اس نے شامی حکومت کی عملداری کو بھی محدود کر دیا ہے۔

عراق میں نسلی، مذہبی اور فرقہ ورانہ گروہوں کا ایک ملغوبہ اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کی تلاش میں ہے اور ان گروہوں میں کرد سب سے نمایاں ہیں۔

لیکن یہ صرف اندرونی شامی اور عراقی دھڑوں ہی نہیں جو اس کے کھلاڑی ہیں۔

عراق میں طاقتور علاقائی ممالک جیسے کہ ایران اور ترکی بھی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کا شوق رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر ترکی نے اپنی افواج کو شمالی شام میں متحرک کر دیا ہے۔

عراق میں جاری لڑائی جب ترکی کی سرحد کے قریب پہنچے گی تو انقرہ حکومت اس ملک میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے بے چین بھی ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Empics
Image caption انقرہ کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی جو دہائیوں سے ترکی کے اندر شورش کرتی آئی ہے وہ شمالی عراق میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت نہ دے پائے

انقرہ کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی جو دہائیوں سے ترکی کے اندر شورش کرتی آئی ہے وہ شمالی عراق میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت نہ دے پائے۔

ترکی کی حکومت عراق میں ایرانی اثرو رسوخ کو بھی محدود کرنا چاہتی ہے جب کہ تہران کے عراق کی شیعہ اکثریتی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

ترکی شمالی عراق میں خود کو سنی عربوں اور ترکمان اقلیت کے لیے ایک محافظ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ موصل مہم میں شعیہ ملیشیا کو شامل کرنے کا مخالف ہے۔

لیکن یہاں تاریخ کا ایک اچھا معاہدہ بھی ہے جس کی واضح جھلک ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان کی بڑھتی ہوئی بیان بازی میں بھی دکھائی دیتی ہے۔

رجب طیب اردوگان نے برسا میں 22 اکتوبر کو پہلی جنگ عظیم کے فوری بعد کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ہم نے رضا کا رانہ طور پر اپنے ملک کی سرحدوں کو تسلیم نہیں کیا۔'

ان کا کہنا تھا 'جدید ترکی کی سب سے بڑی غلطی اپنے ثقافتی رابطوں کی کمزوری تھی۔'

ترک صدر کا کہنا تھا کہا کہ 'لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ترکی کا عراق، شام اور بوسنیا میں کیا کردار ہے لیکن یہ جغرافیائی علاقے ہماری روح کا حصہ ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عراق کے وزیر اعظم حیدر العبدی نے گذشتہ ہفتے ملک میں ترکی کی مکمنہ محاذ آرائی میں ملوث ہونے کے حوالے سے اسے متبنہ کیا تھا

ترکی کا میڈیا ملک کے پھیلتے ہوئے افق کی خوب تشہیر کر ہا ہے۔

ترک افواج اب موصل آپریشن میں حصہ نہیں لے رہی ہیں۔

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبدی نے گذشتہ ہفتے ملک میں ترکی کی مکمنہ محاذ آرائی میں ملوث ہونے کے حوالے سے اسے متبنہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا 'ہم ترکی کے لیے تیار ہیں، یہ صرف دھمکی یا وارننگ نہیں ہے، یہ عراق کے وقار کا سوال بھی ہے۔'

تاہم ترکی کا موصل کے شمال مشرقی علاقے بشقیہ میں ایک فوجی اڈا موجود ہے جو بغداد کے لیے مسلسل مشکل کا باعث ہے۔

ترکی نے شام کی طرح عراق میں بھی مقامی ملیشیا فورس کو ٹریننگ دی ہے جو تین ہزار عربوں، ترکمان اور کردوں پر مشتمل ہے تاہم اس فورس کا موصل آپریشن میں کردار واضح نہیں ہے۔

لیکن انقرہ اور بغداد کے درمیان کشدیگی ختم نہیں ہو رہی ہے۔

مثال کے طور پر ترکی نے پیر کو کہا کہ اس نے موصل کے علاقے بشقیہ میں قائم اپنے فوجی اڈے کو دولت اسلامیہ کے خلاف پیشمرگہ جنگجؤوں کی مدد کرنے کے لیے وہاں ٹینک اور آرٹلری فائر پہنچا دے ہیں جبکہ عراقی حکومت نے فوری طوری پر اس کی تردید کی۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع صرف موصل کی جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس کے بعد کے حالات پر بھی اس کے اثرات ہوں گے۔

دولت اسلامیہ کے خطے سے بے دخل ہونے کے بعد خطے کو کون کنٹرول کرے گا؟

کیا عراق کی انتہائی فرقہ وارانہ حکومت حقیقت میں سب کے مفادات کے لیے کام کرے گی؟

کیا ترکی کردوں کے ایک کے لیے تیار ہے؟

ترکی ایک کرد دھڑے کو ختم کرنے کے لیے دوسرے کی حمایت میں کس حد تک جائے گا؟

اور سب سے بڑا جواب طلو سوال یہ ہے کہ آیا صدر اردوگان خلافت عثمانیہ کی باتیں محض بیان بازی تک محدود رکھیں گے یا پھر وہ واقعی عراق کے معاملے میں کوئی ایسا ہی فعال ادا کریں گے جو انھوں نے شام کے معاملے میں کیا تھا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں