خواتین ممبر پارلیمان کے ساتھ جنسی بدسلوکی عام ہے: رپورٹ

پارلیمنٹ تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین پارلیمان کے ساتھ بھی جنسی بدسلوکی یہاں تک کہ تشدد عام ہے

عالمی سطح پر اراکین پارلیمان کی نمائندگی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں خواتین پارلیمان کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے یہاں تک کہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا معاملہ عام ہے۔

انٹر پارليمنٹري یونین (آئی پی یو) یہ رپورٹ جنیوا میں جاری اپنے سالانہ اجلاس میں جاری کر رہی ہے۔

اس سروے میں صرف 55 خواتین ارکان پارلیمان نے حصہ لیا لیکن وہ دنیا کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔

ان میں سے 80 فیصد ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ انھیں کسی نہ کسی شکل میں ذہنی یا جنسی طور ہراساں کیے جانے یا تشدد کا سامنا رہا ہے۔

یہ رپورٹ اس وقت جاری کی جارہی ہے جب امریکی صدارتی انتخابات میں رپبلكن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنی حریف ہلیری کلنٹن کے بارے میں بیان اور ایک عرصے تک دوسری خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

ان میں بعض ایسی بدسلوکیوں کا بھی ذکر ہے جس کا دنیا بھر میں خواتین اراکین پارلیمان کو اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے دوران سامنا ہوتا ہے۔

یورپ کی ایک خاتون رکن پارلیمان نے بتایا کہ انھیں ٹوئٹر پر صرف چار دنوں میں ریپ کے متعلق 500 دھمكيا ملی تھیں۔

اسی طرح ایشیا کی خاتون رہنما کا کہنا تھا کہ انھیں ان کے بیٹے، اس کے سکول، اس کی کلاس اور اس کی عمر کے ذکر کے ساتھ دھمکیاں ملی تھیں۔

سروے میں شامل 65.5 فیصد خواتین نے بتایا کہ 'جنسی زبان اور علامات' کے ساتھ ان کی بے عزتی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرد ساتھیوں کی جانب سے ذلیل و خوار کرنے والے ریمارکس عام ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سروے میں شامل 65.5 فیصد خواتین نے بتایا کہ جنسی زبان اور علامات کے ساتھ ان کی بے عزتی کی گئی ہے

زیمبیا میں جینڈر کی وزیر پروفیسر اینکانڈو لوؤ بتاتی ہیں کہ 'ہماری یہاں کی دنیا میں ۔۔۔ خواتین اراکین پارلیمان کے تعلق سے ہر طرح کی زبان کا استعمال ہوتا ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ ایک بار ایک سیاستدان نے سرعام کہا تھا کہ وہ 'پارلیمنٹ اس لیے جانا چاہتے ہیں کیونکہ وہاں بہت سی خواتین ہیں اور وہاں میں جسے چاہوں اس کی جانب اشارہ کروں کہ مجھے کون سی چاہیے۔'

پروفیسر لوؤ نے کہا کہ اس واقعے کا ذکر پریس میں بھی آیا تھا کہ یہ دلچسپ اور قابل قبول ہے۔ 'اس طرح وہ خواتین کو ذلیل کرتے ہیں۔'

دریں اثنا کینیڈا کی سینیٹر سلمی عطا اللہ جان نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ سروے ان کے لیے نہیں تھا اور انھوں نے کہا تھا: 'میں کینیڈا سے تعلق رکھتی ہوں اور مجھے اس میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔'

لیکن جب اس سروے کا جواب دے رہی تھی تو وہ بہت معلومات افزا تھا: 'ہم ایسے رکن پارلیمان کے ساتھ باہر جاتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں اور مجھے وہ شخص یاد ہے جو میرے بہت قریب ہونا چاہتا تھا۔'

پہلے تو انھوں نے اس کے اشارے کنائے کو نظر انداز کر دیا تھا لیکن اب وہ یہ جان گئیں ہیں کہ نامناسب اور دھمکانے والے سلوک کیا ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں