'بُرے سے نیا تجربہ بہتر ہے'، ٹرمپ کے پاکستانی نژاد حامیوں کا خیال

’اگر شامی اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو وہ سعودی عرب یا کویت یا مصر کیوں نہیں جاتے، بحیرۂ اوقیانوس پار کر امریکہ کیوں آنا چاہتے ہیں؟'

یہ کہنا ہے ساجد تارڑ کا جو امریکی شہر میری لینڈ کے باسی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیں گے۔

پاکستانی نژاد امریکی شہری ساجد کا لہجہ سخت اور ماتهے پر سلوٹ تهی۔

میں میری لینڈ میں ان سے ان کے عالی شان دفتر میں ملی۔ وہ معذوروں کے لیے غیر سیاسی فلاحی ادارہ چلاتے ہیں۔

انھیں امریکہ نے 30 برس پہلے کهلے دل سے قبول کیا مگر وہ شامی پناہ گرینوں کی امریکہ آمد سے پریشان ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'شام کے لوگ بغیر کاغذات کے آ رہے ہیں۔ ہمیں کیا پتہ کون ہیں وہ اور کیوں آئے ہیں؟ دولت اسلامیہ پہلے ہی امریکہ پر حملوں کی دهمکی دے چکی ہے۔ اور اگر شامی امریکہ آ جائیں گے تو ان کی جنگ کون لڑے گا؟'

میں نے پوچها کہ 'جان بچے گی تو جنگ لڑیں گے؟'

وہ بولے: 'اتنے دور آنے کی کیا ضروت ہے؟ انھیں ہجرت کرنے کے لیے صرف امریکہ ہی ملا ہے؟'

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ان کا کہنا ہے: 'میں نے پولیٹیکل سائنس اور قانون پڑها ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ جمہوریت زوال کا شکار ہے۔ ڈیموکریٹس سوشلزم کی طرف جانا چاہتے ہیں اور میں یہ خواب میں لے کر امریکہ نہیں آیا تها۔'

وہ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ٹرمپ نے چند باتیں غلط کہی ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ 'برے تجربے سے نیا تجربہ بہتر ہے۔'

ٹرمپ کی وائٹ ہاوس تک دوڑ میں انھیں سب سے زیادہ نقصان ان کے خواتین کے بارے میں نازیبا کلمات نے پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے بعض جائزوں کے مطابق خواتین کی جانب سے ان کی حمایت میں کمی بهی ہوئی ہے۔

پاکستانی نژاد امریکی شہری صبا احمد کے لیے خاتون ہونے کے ناطے ٹرمپ کا دفاع کرنا مشکل تو ہے مگر یہ ان کے لیے اہم یا بڑا مسئلہ نہیں۔

الیگزینڈریا کی رہائشی صبا وکیل ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'وہ باتیں غلط ہیں لیکن ہمیں اپنی معیشت پر توجہ دینی ہے یہ زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انھوں نے ٹرمپ کی حمایت کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا: 'ہماری طرح رپبلکنز بهی ہم جنس پرستوں کی آپس میں شادی یا اسقاط حمل کو غلط سمجهتے ہیں اور یہ غیر اسلامی ہے۔ میں کهبی اس کی حمایت نہیں کر سکتی۔'

حنیف اختر پرامید ہیں کہ ٹرمپ ہی جیتیں گے۔ وہ کہتے ہیں: 'رپبلکنز نے ہمیشہ پاکستان کے لیے اچها سوچا اور ڈیموکریٹس انڈیا کی طرف بھاگتے ہیں۔ جو مجهے بالکل پسند نہیں۔'

اب تک کے انتخابی جائزوں میں ہلیری کلنٹن کو واضح برتری حاصل ہے اور ہار کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انتحابات کے نتائج قبول نہ کرنے کے متنازع بیان نے بیشتر ووٹروں کو امریکی جمہوری نظام پر انگلیاں اٹهانے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں