عراق کی یزیدی برادری کی دو خواتین کے لیے سخاروف ایوارڈ

نادیہ مراد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سخاروف ایوارڈ ایک سویت سائنسدان اور باغی آندرے سخاروف کی یاد میں ہر سال دیا جاتا ہے

عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جنسی غلامی سے بھاگنے والی دو یزیدی خواتین نے یورپ میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا سخاروف ایوارڈ جیت لیا ہے۔

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے سنہ 2014 میں ہزاروں یزیدی خواتین کو اغوا کر کے جنسی غلامی پر مجبور کر دیا تھا۔ ان خواتین میں نادیہ مراد اور لامیا اجی بشر بھی شامل تھیں۔

٭ بربریت کا شکار یزیدی لڑکی خیرسگالی کی سفیر مقرر

دونوں خواتین دولت اسلامیہ کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھیں اور اب یزیدی برادری کے حق میں مہم چلا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ سخاروف ایوارڈ ایک سوویت سائنسدان اور باغی آندرے سخاروف کی یاد میں ہر سال دیا جاتا ہے۔

یورپی پارلیمان میں الائنس آف لبرلز اینڈ ڈیموکریٹس فار یورپ (ایل ایل ڈی ای) کے سربراہ کا سخاروف ایوارڈ کے فاتحین کے بارے میں کہنا تھا کہ دونوں خواتین نے درندگی کے دوران ناقابل یقین بہادری کا مظاہرہ کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ دونوں خواتین کو سخاروف ایوارڈ 2016 سے نوازا گیا ہے۔

گذشتہ برس کا سخاروف ایوارڈ ایک سعودی بلاگر رائف بداوی کو دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ رائف بداوی کو 'توہین اسلام' کے جرم میں دس سال قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں