نیٹو روس سے ٹکراؤ چاہتا ہے نہ ہی نئی سرد جنگ: جینز سٹولٹنبرگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹینبرگ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد روس کے ساتھ ٹکراؤ نہیں بلکہ اور زیادہ معاون اور تعمیری تعلقات استوار کرنے کی ایک کوشش ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو روس کے ساتھ نہ تو کوئی ٹکراؤ اور نہ ہی دوسری سرد جنگ چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرقی یورپ کے علاقے میں اضافی چار ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد احتیاط برتنا ہے اشتعال دلانا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود نیٹو کا فوجی اتحاد روس کو خطرے کے طور پر نہیں دیکھتا۔

سرد جنگ کے اختتام کے بعد روس اور مغربی طاقتوں کے درمیان آج کل تعلقات کافی خراب ہیں۔

2014 میں یوکرین کے جزیرے کرائمیا کے روس کے ساتھ الحاق کے بعد یورپی یونین اور امریکہ نے روس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

شام کی جنگ کے حوالے سے بھی مغربی طاقتوں اور روس کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔

کئی مغربی ممالک نے شام کے بعض شہروں، خاص طور پر صدر اسد کے مخالف گروپوں کے زیر قبضے علاقوں، پر روسی بمباری کو جنگی جرائم سے تعبیر کیا ہے اور اس کی وجہ سے بھی کشیدگی کا ماحول ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ میں روس کی طرف سے جارحانہ فوجی ڈیزائن کا نظریہ 'مضحکہ خیز' ہے۔

نیٹو نے کثیرالملکی فوجیوں پر مشتمل ایک ہزار فوجیوں کی چار بٹالین تشکیل دی ہیں جو آئندہ برس کے اوئل میں پولینڈ، اسٹونیا، لیٹویا اور لتھوینیا میں تعینات کی جائیں گی۔ ان فوجی بٹالینز کی قیادت امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کریں گے۔

لیکن نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد روس کے ساتھ ٹکراؤ نہیں بلکہ 'مزید معاون اور تعمیری تعلقات استوار کرنے کی ایک کوشش ہے لیکن یہ ہمیں اجتماعی دفاع اور طاقت کے توازن کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔'

انھوں نے کہا کہ نیٹو کو روس سے فوری طور پر تو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے لیکن یوکرین میں اس کے اقدامات کے مد نظر اور یورپی ممالک کے خلاف جوہری طاقت کے استعمال کی دھمکانے والے بیانات کے پیش نظر ایسا کیا جا رہا ہے۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ روس نے اپنی مغربی سرحد کے قریب تین لاکھ 30 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔

اس سے قبل اسی ہفتے اس طرح کی تشویش اور خدشات کے اظہار کے بعد کہ ممکن ہے کہ روسی جنگی جہاز شام میں شہریوں پر بمباری کے کے لیے استعمال ہو، اسے سپین کی بندرگاہ پر رکنے سے منع کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں