ہلیری پر اعتماد، ’نئئ تحقیقات سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے‘

ہلیری کلنٹن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ وہ ’مطمئن‘ ہیں کہ ای میلز کے معاملے پر ایف بی آئی کی دوبارہ تحقیقات سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔

امریکہ کے تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے سربراہ نے نئی انکوائری کے لیے ہلیری کلنٹن کو بلوایا ہے۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے کانگریس کو بتایا کہ ادارہ ہلیری کلنٹن کی ای میل کے معاملے کی تحقیقات دوبارہ کھول رہا ہے۔

تفتیش کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ 'ایک غیرمتعلقہ معاملے سے متعلق نئی ای میلز سامنے آئی ہیں جو تحقیقات کی متقاضی ہیں۔'

کومی نے کہا کہ تفتیش کار اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا ان میلز میں خفیہ معلومات تو نہیں۔

ہلیری کلنٹن نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پراعتماد ہیں کہ اس تفتیش کے نتائج اس سے پہلے کی جانے والی تحقیقات سے مختلف نہیں ہو گے کہ ان پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

کلنٹن نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نئی تفتیش کے بارے میں امریکی عوام کے سامنے وضاحت کریں۔

ایف بی آئی نے پہلے ہی سے بتا رکھا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے نجی سرور پر حساس معلومات موجود تھیں۔

کومی نے اس سے قبل کلنٹن کی جانب سے اپنے دورِ وزارت کے دوران حساس معلومات سے عہدہ برا ہونے کے طریقے کو 'انتہائی لاپروایانہ' قرار دیا تھا، تاہم انھیں کسی مجرمانہ عمل کا مرتکب قرار نہیں دیا۔

ایف بی آئی کے سربراہ نے اپنے خط میں کانگریس کو لکھا کہ 'میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مواد اہم ہو گا یا نہیں۔ اور میں یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ اس عمل پر مزید کتنا وقت لگے گا۔'

اس معاملے کی اہمیت کیا ہے؟

اینتھونی زرکر، بی بی سی نیوز، واشنگٹن

ہو سکتا ہے یہ بالکل غیر اہم ہو۔ ہو سکتا ہے یہ انتہائی اہم ہو، لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ معاملہ امریکی انتخابات سے پہلے حل نہیں ہو گا جن کے انعقاد میں دو ہفتے سے کم وقت رہ گیا ہے۔

کومی نے کانگریس کو جو خط لکھا ہے وہ انتہائی مبہم ہے۔ اس میں اس 'غیر متعلقہ معاملے' کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی جس کی وجہ سے یہ معاملہ دوبارہ کھولا گیا ہے۔

البتہ اس سے کلنٹن کے مخالفین کو ضرور ایندھن فراہم ہو جائے گا، جو اسے اپنے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر استعمال کریں گے کہ کلنٹن کا طرزعمل غیرقانونی تھا۔

کلنٹن کے حامی اگلے ہفتے کے دوران ان کا دفاع کرنے کی اپنی سی کوشش کریں گے۔

یہ بات واضح ہے کہ انتخابات عین سر پر ہونے کے موقعے پر نئی تفتیش کھلنے سے کلنٹن کو نقصان پہنچے گا۔ اگر وہ جیت جاتی ہیں تب بھی ان کی صدارت پر اس تنازعے کے سائے ایک لمبے عرصے تک چھائے رہیں گے۔

’بدعنوانی کا نیا درجہ‘

ریل کلیئر پولیٹکس کی جانب سے رائے عامہ کے جائزوں کے اوسط کے مطابق کلنٹن اپنے رپبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ سے پانچ پوائنٹ آگے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہلیری کلنٹن کی ای میل کا معاملہ واٹر گیٹ سے بھی بڑا ہے

البتہ ٹرمپ نے نیوہیمپشائر میں اپنے پرجوش حامیوں کے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: 'ان کے غیرقانونی اور مجرمانہ طرزِ عمل کی تفتیش دوبارہ کھول دی گئی ہے جس کی وجہ سے امریکہ کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی تھی۔

'ہلیری کلنٹن کی بدعنوانی کا درجہ اس قدر بلند ہے کہ ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ہمیں انھیں اپنے مجرمانہ منصوبے لے کر وائٹ ہاؤس جانے کا موقع کبھی نہیں دینا چاہیے۔'

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ہلیری کلنٹن کی جانب سے اپنا نجی ای میل سرور چلانے کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد سے ووٹروں کے ان پر اعتماد میں کمی آئی ہے۔

اسی بارے میں