دس چيزیں جن سے ہم گذشتہ ہفتے لا علم تھے

تصویر کے کاپی رائٹ ISTOCK/SERGIYN
Image caption جرمنی میں اس چرچ کو خطرہ لاحق ہے

1- مردوں کے پیشاب کرنے کی وجہ سے دنیا کے بلند ترین چرچ کو خطرہ لاحق ہے۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں۔

2- امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم نے عوامی رائے شماری یعنی پولنگ پر اتنے پیسے نہیں خرچ کیے جتنے ہیٹ یعنی ٹوپیاں بنانے پر خرچ کیے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

3- ویڈیو گیم میں آواز ریکارڈ کرنے والے صوتی فنکاروں کو چار گھنٹوں کی ریکارڈنگ کے لیے 50۔825 ڈالر کی رقم ادا کی جاتی ہے۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

4- برطانوی وزارت خارجہ کے دفتر کی پالتو بلی پامرسٹن تین بار دوسرے محکموں میں گھومتی پھرتی پائی گئی ہے۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

تصویر کے کاپی رائٹ Album
Image caption لنڈزے لوہن اپنا وعدہ بھولی ہوئی ہیں

5- ایک کمپیوٹرجج 97 فیصد درستگی کے ساتھ عدالت کے فیصلے کی پیش گوئی کر سکتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

6- جتنا زیادہ آپ جھوٹ بولتے ہیں آپ کا دماغ جھوٹ بولنے کا اتنا ہی عادی ہو جاتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں۔

7- انٹرنیٹ فونٹ یعنی انٹرنیٹ پر طرزِ لکھائی بہت پتلا ہوتا جارہا ہے جس سے پڑھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

8- فٹبال کی ہیڈنگ یعنی سر سے سٹرائیک کرنے پر 24 گھنٹے تک کھلاڑی کی یاد داشت متاثر ہوسکتی ہے۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

9- امریکی فنکارہ لنڈسی لوہن نے برطانوی قصبے کیٹرنگ میں کرسمس لائٹ جلانے کا وعدہ کیا تھا جسے وہ ابھی تک پورا نہیں کر پائی ہیں۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

10- عہد قدیم میں سائیبیریا میں کم سے کم ایک طوطا ضرور رہا ہوگا۔

مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

اسی بارے میں