ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد مزید ’دس ہزار سرکاری ملازمین برطرف‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ترکی میں حکام نے گذشتہ جولائی میں ناکام فوجی بغاوت کی کوشش میں ملوث ہونے کے الزام میں دس ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر دیا ہے۔

سنیچر کے روز شائع ہونے والے ایک حکم نامے کے مطابق برطرف کیے جانے والے سرکاری ملازمین میں اساتذہ، ڈاکٹر اور نرسیں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے 15 دفاتر بھی بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

تاہم فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان افراد کو امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے تحت برطرف کیا گیا ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ ترک حکومت کی جانب سے فتح اللہ گولن پر ناکام فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام کی جانب سے برطرف کیے جانے والے افراد کی تعداد 10131 ہے جن میں محکمۂ انصاف، صحت اور تعلیم کے ملازمین شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی میں ناکام بغاوت کی کوشش کے بعد 18000 ہزار گرفتاریاں عمل میں لائی جاچکی ہیں۔

پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے 66000 افراد کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے اور 50 ہزار کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ملک کے142 میڈیا اداروں کو بند کیا جا چکا ہے۔

یاد رہے کہ ترکی میں حکام کے مطابق 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت میں تقریباً نو ہزار فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ بغاوت میں حصہ لینے والے فوجی اہلکاروں کے پاس 35 جہاز، 37 ہیلی کاپٹر، 74 ٹینک اور تین بحری جہاز تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں