ہلیری کی ای میلز کی تحقیقات: ’ایف بی آئی چیف نے تجاویز کو نظر انداز کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہلیری کلنٹن نے اس پیش رفت کو غیر معمولی اور گہری تشویش کا باعث قرار دیا ہے

امریکی حکام نے کہا ہے کہ محکمہ انصاف کی جانب سے ایف بی آئی کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ کانگرس کو ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کی ای میلز کے بارے میں کی جانے والی نئی تحقیقات کے حوالے سے آگاہ نہ کریں۔

محکمہ انصاف کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بظاہر انتخابات میں مداخلت سے بچنے کے لیے بنائے جانے والے اصولوں کے متصادم ہو گا۔

٭ ہلیری پر اعتماد، 'نئئ تحقیقات سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے'

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے نے جمعے کو انفرادی حیثیت میں اراکین کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹرز کی جانب سے مسٹر کومے اور اٹارنی جنرل لوریٹا لینچ کو بھجوائے گئے خط میں اصرار کیا گیا ہے کہ وہ اس حوالے سے پیر تک مزید تفصیلات سے آگاہ کریں۔

ان کا موقف ہے کہ مسٹر کومے کا اس کیس کو انتخابات سے محض چند روز قبل دوبارہ کھولنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے کہتے ہیں کہ تحقیقات منظر عام پر نہ لانا غطل بیانی ہوگا

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایف بی آئی کے تفتیش کار ہلیری کلنٹن کی سامنے آنے والی نئی ای میلز کے بارے میں آگاہ تھے لیکن انھوں نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔

تاہم رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایف بی آئی کے اس فیصلے کی تعریف کی ہے۔

سنیچر کو فوئنیکس میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ انصاف پر الزام عائد کیا کہ وہ دھاندلی کے نظام میں ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی امیدوار کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کانگرس کو لکھے گئے خط میں مسٹر کامے نے کہا کہ تازہ ای میلز شاید سابقہ مسز کلنٹن کی ای میل کے استعمال کے حوالے سے کی جانے والی انکوائری سے مماثلت رکھتی ہیں۔

اس سے قبل ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ 'مطمئن' ہیں کہ ای میلز کے معاملے پر ایف بی آئی کی دوبارہ تحقیقات سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں