اٹلی زلزلہ: ہزاروں افراد کا عارضی مراکز میں قیام

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حالیہ زلزلے کو گذشتہ دہائیوں میں ملک میں آنے والا سخت ترین زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

وسطی اٹلی میں تین ماہ میں آنے والے چوتھے زلزلے کے بعد عوام خوف زدہ ہیں اور ہزاروں افراد نے خیموں، گاڑیوں، یا عارضی نوعیت کی رہائشی گاہوں میں رات بسر کی ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو اٹلی کے وسطی شہر نورسیہ کے قریب زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جس سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا اور اس زلزلے میں کم سے کم 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس سے پہلے اگست میں اٹلی میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کئی قصبے تباہ ہو گئے تھے اور 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اتوار کے روز آئے اس زلزلے کی ریکٹر سکیل پر شدت 6.6 بتائی گئی ہے جو کہ اگست میں آنے والے زلزلے سے زیادہ تیز ہے۔

ابھی تک اس زلزلے کی وجہ سے اب تک 20 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ @MONKSOFNORCIA
Image caption اتوار کے روز آئے اس زلزلے کی ریکٹر سکیل پر شدت 6.6 بتائی گئی ہے جو کہ اگست میں آنے والے زلزلے سے زیادہ تیز ہے
تصویر کے کاپی رائٹ @FRANC_PETRUCCI
Image caption نورسیہ کی شاہرائیں بھی زلزلے سے متاثر ہوئی ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زلزلے کے باعث مقامی افراد اپنے گھروں سے باہر نکل آئے

مقامی میڈیا کے مطابق زلزلے سے مہندم ہونے والی عمارتوں سے افراد کو زخمی حالت میں باہر نکالا گیا ہے۔

زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت روم اور وینس میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ زلزلے کی گہرائی ایک اعشاریہ پانچ کلومیٹر تھی۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اس زلزلے کا مرکز صوبہ پیروگیا کے وسط سے تقریباً 68 کلومیٹر جنوب مشرق میں نورسیہ کے قصبے کے پاس تھا۔

یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح پونے آٹھ بجے کے قریب آیا۔

حالیہ زلزلے کو گذشتہ دہائیوں میں ملک میں آنے والا سخت ترین زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں