دولتِ اسلامیہ کی پروپیگنڈہ ’وار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Al furqaan media

موصل کی جانب عراقی افواج کی پیش قدمی کے بعد شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی طرف سے پروپیگنڈہ میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

موصل کی دولتِ اسلامیہ کے لیے بہت اہمیت ہے، اسی شہر میں گروہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے سنہ 2014 میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

عراقی اور کرد افواج کی جانب سے 17 اکتوبر کو موصل کو آزاد کروانے کے لیے شروع کیے جانے والے آپریشن کے بعد سے دولتِ اسلامیہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی آئی ہے کہ اس کے ’دشمنوں‘ کی شہر کی جانب پیش قدمی بھاری جانی نقصان کی وجہ سے سست روی کا شکار ہے۔

اس کے ساتھ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ شہر میں زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔

جبکہ کچھ ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ جنگ کی وجہ سے شہری سہولتوں کو نقصان پہنچا ہے اور جنگجوؤں کو ’دشمنوں‘ سے بدلہ لینے کا عہد کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

موصل پر قبضے کی جنگ شروع ہونے کے ایک ہفتے کے اندر ہی دولتِ اسلامیہ کے خود ساختہ خبرساں ادارے ’الفرقان‘ کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹس میں دو گناہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

ان میں سے کچھ رپورٹس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ موصل میں حالات دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول میں ہیں اور زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔

ایک ایسی ویڈیو میں بچوں کو گولیوں میں کھیلتے اور شہریوں کو بازاروں میں خرید وفرخت کرتے اور شہر میں ’سکیورٹی‘ کی صورتحال پر اظہارِ اطمینان کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ IS Media

لیکن اس کے ساتھ گروہ نے یہ بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے شہر کے گرد و نواح پر کی جانے والی فضائی بمباری سے شہری سہولیات جیسے ہسپتال اور سکول بھی متاثر ہوئے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ نے اس چیز کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ مختلف ’دشمنوں‘ کا جن میں عراقی اور کرد افواج کے علاوہ شیعہ ملیشیا بھی شامل ہیں، مقابلہ کر رہی ہے۔

گروہ نے اپنے پیغامات میں اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ موصل کا ہر حال میں دفاع کیا جائے گا اور شہر پر حملے کی اس کے ’دشمنوں‘ کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

انٹرنٹ پر جاری کی گئی رپورٹس میں دولتِ اسلامیہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنگ کے پہلے ہفتے میں اس نے 58 خودکش حملے کیے جس سے اس کے دشمنوں کا بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اور ان کی شہر کی جانب پیش قدمی بھی رک گئی ہے۔

اگرچہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے اپنے نقصانات کو چھپانے کی کوشش مسلسل کی جاتی رہی ہے اور بہت سے علاقوں میں اپنی شکست کو اس نے غیر اہم قرار دیا ہے لیکن کچھ علاقوں جیسے بارٹیلا میں اپنی شکست کو اس نے تسلیم بھی کیا ہے۔

ان سب کے ساتھ دولتِ اسلامیہ نے اپنی پروپیگنڈہ ویڈیوز میں اپنے حامیوں کو دنیا بھر میں حملے کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔