محمود عباس کے بعد فلسطینیوں کی قیادت کون سنبھالے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ڈھلتی عمر، ماضی میں صحت کے مسائل اور کم ہوتی ہوئی مقبولیت کے باوجود فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اپنا جانشین مقرر کرنے کے مطالبات کو مسلسل نظر انداز کرتے رہے ہیں۔

محمود عباس کے ایک معتمد نے ان خبروں کو کہ فلسطینی گروپ فتح سے تعلق رکھنے والے اکاسی سالہ رہنما اپنے جانشین کو مقرر کرنے والے ہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔

اس ماہ کے شروع میں ان کی صحت بگڑ جانے سے ایک مرتبہ پھر فلسطینی اتھارٹی کو لاحق سیاسی خطرات کا شدت سے احساس ہوا تھا۔

فتح اور اس کی مقابل حماس کے درمیان پائی جانے والی بداعتمادی کی وجہ سے ایک سیاسی تعطل چلا آ رہا ہے۔

حماس نے سنہ 2006 پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی جس کے ایک سال قبل صدر محمود عباس نے اپنا عہدہ سنبھالا تھا۔

سنہ 2007 میں حماس نے غزہ سے فتح کو نکالنے کے بعد اپنی گرفت مضبوط کر لی اور فتح کو اسرائیل کے زیرِ قبضہ غرب اردن تک محدود کر دیا تھا۔

اس کے بعد سے اب تک وہاں کوئی انتخابات نہیں ہو سکے۔ حال ہی میں فلسطینی علاقوں میں مقامی انتخابات ملتوی کر دیے گئے تھے۔

گروہی اختلافات

فلسطینی حلقوں، اسرائیل حکام اور سفارتی سطح پر ایک خاموش بحث زور پکڑ رہی ہے کہ نیا فلسطینی رہنما کون ہوگا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ حماس اسماعیل ہانیہ کو اپنا نیا رہنما نامزد کرے گی۔

حماس کے ایک ترجمان ہزیم قسیم کا کہنا ہے کہ مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کا انتخاب منصفانہ ہو اور یہ صرف فتح کا اندرونی معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption مروان برغوتی اس وقت اسرائیل کی جیل میں اسرائیلیوں کے قتل میں ملوث ہونے پر پانچ سال کی قید کاٹ رہے ہیں

لیکن سیاسی مفاہمت کے بغیر ان کا گروہ بے معانی ہو جائے گا۔

فلسطین کے آئین کے مطابق اگر صدر کا انتقال ہو جائے یا وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل نہ رہے تو پھر پارلیمانی سپیکر نئے انتخابات ہونے تک ان کی ذمہ درایاں سنبھال لیتا ہے ۔

موجودہ سپیکر عزیز دویک کا تعلق حماس سے ہے اور فتح کے کچھ اہلکاروں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ آئین کا یہ آرٹیکل قابل عمل نہیں رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے فلسطینی پارلیمان کا اجلاس نہیں ہو سکا ہے۔

فتح کی مرکزی کمیٹی جو اس گروہ کا اعلی ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے وہ مستقبل کے صدر کو نامزد کرےگا۔

فلسطینیوں کے مطابق بیس رکنی کمیٹی میں سب سے مقبول ترین شخصیت مروان برغوتی ہیں جنہوں نے فتح تنظم کے جنگجوؤں کی گزشتہ انتفادہ میں قیادت کی تھی۔

مروان برغوتی اس وقت اسرائیل کی جیل میں اسرائیلیوں کے قتل میں ملوث ہونے پر پانچ سال کی قید کاٹ رہے ہیں لیکن فلسطینیوں میں ان کا اثرو رسوخ برقرار ہے۔

فلسطین سنٹر فار پالیسی اینڈ سروے کے سربراہ خلیل شکیکی کے بقول ' غزہ اور غربِ اردن میں ابھی بھی انھیں حمایت حاصل ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ مروان برغوتی صدر عباس اور وزیرِاعظم ہانیہ سمیت سب ممکنہ امیدواروں کو ہرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگر صدر عباس انتخاب میں حصہ نہیں لیتے تو مروان برغوتی نے اس بات کا اندیہ دیا ہے کہ وہ الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

دیگر اہم نام

تین دیگر اہم شخصیات میں محمد دھلان جو غزہ میں سکیورٹی فورس کے سربراہ تھے ، جبریل رجب وہ بھی سکیورٹی فورسز سے وابستہ رہے ہیں اور موجودہ انٹیلیجنس سربراہ ماجد فراج شامل ہیں۔

اگرچہ ان شخصیات کا خیال ہے کہ وہ مستقبل میں فلسطین کے صدر منتخب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کے یہ نام حتمی نہیں ہیں ان کے علاوہ اور بھی ایسی شخصیات ہیں جو صدر منتخب ہوسکتی ہیں۔