الیکشن ڈائری: پستی کی نئی گہرائیوں کو چھوتی ’فائٹ ٹو فنش‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 'فائٹ ٹو فنش' ہر روز پستی کی نئی گہرائیوں کو چھو رہی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اسے امریکی تاریخ کا سب سے تاریک صدارتی انتخاب کہا جا رہا ہے۔

عدلیہ، میڈیا اور ووٹرز سب ہی کا جیسے پیمانۂ صبر لبریز ہو چکا ہے اور یہ انتخاب کم اور دنگل زیادہ محسوس ہو رہا ہے۔

سیاستدان تو سیاستدان اس بار امریکی صدارتی انتخاب میں تحقیقاتی اداروں پر بھی کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔

صدارتی انتخاب سے چند دن پہلے پہلے ایف بی آئی کی جانب سے ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی تحقیقات کے بیان نے ڈیموکریٹس کی پولز میں جیت کو دھچکا پہنچایا ہے جس کے بعد اب بعض ڈیموکریٹس ایف بی آئی پر انتخاب پر اثرانداز ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی آئین کے مطابق کوئی بھی سرکاری ملازم کسی بھی قسم کی انتخابی مہم کا حصہ نہیں بن سکتا۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ ایف بی آئی کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔گو کہ وہ کچھ عرصے پہلے اسی ادارے کے سربراہ کو ہلیری کلنٹن کے خلاف مجرمانہ کارروائی نہ کرنے پر کوس رہے تھے۔

اور عالم یہ ہے کہ اگر اس تازہ تنازع سے ٹرمپ کو فائدہ مل بھی جائے تو یہ شاید دائمی نہ ہو کیونکہ انتخاب کے بعد یعنی 28 نومبر کو ایک فراڈ کے کیس میں ان کی عدالت میں پیشی ہے۔

Image caption آمنہ خان کے خیال میں ہلیری کا صدر بننا ان کے لیے بہت فخر کا موقع ہو گا

لیکن بعض ووٹرز کو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ آمنہ خان گذشتہ 22 برس سے نیویارک میں مقیم ہیں۔ وہ ہلیری کلنٹن کی شخصیت کی مداح ہیں اور ای میلز کا معاملہ ہلیری کے لیے ان کی حمایت میں دراڑ نہیں ڈال سکا ہے۔

وہ کہتی ہیں 'ہلیری سے غلطیاں ہوئی ہیں اور انھوں نے معافی بھی مانگی ہے۔ میں پرامید ہوں کہ وہی جیتیں گی۔'

وہ ہلیری کلنٹن کی چند پالیسیوں سے اختلاف کرتی ہیں مگر ان کا کہنا ہے 'ٹرمپ خواتین کی عزت کرنا نہیں جانتے۔ ہلیری خواتین کے حقوق کے لیے بہتر کام کریں گی اور انھیں مزید مواقع فراہم کریں گی۔'

میرے لیے یہ بہت فخر کا موقع ہو گا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکہ کی صدر کوئی خاتون ہو گی۔'

اوول آفس کی باگ ڈور کون سنبھالے گا، اس کا فیصلہ تو چند دن میں ہو جائے گا مگر اس کی یقین دہانی کروانا مشکل ہے کہ یہ 'سرکس' آٹھ نومبر کے بعد ختم ہوگا یا نہیں۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ امریکی سیاستدانوں نے جیسے عہد کر رکھا ہے کہ وہ پردیس میں بھی مجھ جیسے پاکستانیوں کو وطن کی کمی بالکل محسوس ہونے نہیں دیں گے۔

اسی بارے میں