موصل کا معرکہ: ’داعش صرف داڑھیاں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ NORWEGIAN REFUGEE COUNCIL
Image caption راکن جاوید اید کا کہنا ہے کہ وہ خاندان کے 15 افراد کی کفالت کے ذمہ دار ہیں۔

جب سے عراقی اور کرد فوجیوں نے موصل کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کارروائی شروع کی ہے اس وقت سے شہر کے مضافات میں بسنے والے 1700 افراد کو نام نہاد دولت اسلامیہ کے تسلط سے آزاد کرایا گیا ہے۔

عراق کے نینوا صوبے کے رہائشی راکن جاوید اید دو سال سے زائد عرصے تک دولت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقے میں رہائش پذیر رہے ہیں۔ وہ نینوا سے فرار ہو کر حال ہی میں قیارہ میں مہاجر کیمپ پہنچے ہیں جہاں انہوں نے اپنی کہانی ناروے مہاجر کونسل کو بتائی ہے:

داعش کی آمد سے پہلے میں اور میرے والد پٹرولیم پولیس میں کام کرتے تھے جس کا کام تین کی تنصیبات کی حفاظت کرنا تھا۔ داعش کو میرے والد سے خطرہ تھا اس لیے انھیں ایک آئی ای ڈی کے ذریعے قتل کرنے کی کوشش کی گئی جو ناکام رہی۔

لیکن جب داعش کے جنگجو موصل میں داخل ہوئے تو انھوں نے میرے والد کو قتل کر دیا کیونکہ وہ ایک پولیس آفیسر تھے۔ میں بچ گیا اور انھوں نے میرا پیچھا نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1700 سے زائد افراد موصل کے مضافات سے فرار ہو کر مہاجر کیمپوں میں پہنچے ہیں۔

میرے گاؤں کا دو سال اور چند ماہ تک محاصرہ کیا گیا۔ اگر میں اپنے پولیس میں ہونے کے بارے میں کسی کو بتاتا تو داعش والے مجھے قتل کر دیتے۔ میرے کئی دوستوں کے ساتھ ایسا ہو چکا تھا۔ وہ اپنے گھروں کو جاتے اور داعش والے انہیں وہاں سے اٹھا لیتے۔

داعش صرف داڑھیاں ہیں۔ وہ اپنے زیرِ تسلط علاقے میں بسنے والے تمام لوگوں کو مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر آپ کی خاتون حجاب نہ کرے تو وہ اسے ماریں گے۔ وہ اپنے علاقے میں رہنے والوں کی زندگیوں پر مکمل کنٹرول رکھتے ہے۔

جن لوگوں کو تنخواہیں ملتی ہیں وہ ٹھیک ہیں لیکن میری طرح وہ لوگ جنہیں تنخواہیں نہیں ملتیں اور وہ جو فوج کے لیے کام کرتے رہے ہیں وہ روٹی کے لیے ترستے ہیں۔

لیکن جب عراقی فوج نے میرے گاؤں سے پانچ میل دور علاقہ آزاد کرایا تو میں فرار ہو گیا۔ فوج گاؤں کی طرف مارٹر گولے فائر کر رہی تھی اور داعش اس کا جواب دے رہی تھی۔ یہ سلسلہ کئی دن تک چلتا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عراقی خصوصی دستے موصل شہر سے صرف چند کلو میٹر دور ہیں۔

راکن جاوید اید موصل میں رہنے والے لوگوں نے مجھے بتایا کہ موت قریب ہے۔ اگر آپریشن زیادہ دیر تک جاری رہا تو تباہی ہو گی۔ وہاں کوئی نوکری نہیں ہے، لوگ بھوکوں مر رہے ہیں۔

کچھ لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ اگر ایک یا دو ہفتوں کے اندر اوپر سے خوراک نہ گِرائی گئی تو وہاں قتل و غارت ہو گی۔

وہاں داعش کے لوگ کتوں کی طرح ہیں۔ مجھے امید ہے کہ میرے شہر موصل کو داعش سے آزاد کرایا جائے گا اور ہمارے وزیر اعظم ہمہیں اپنے نوکریوں پر جانے کی اجازت دیں گے۔

میں یہاں خیمے میں بغیر تنخواہ کے رہ رہا ہوں۔ انصاف کہاں ہے؟

میں خاندان کے 15 افراد کی کفالت کا ذمہ دار ہوں اور میرے پاس کوئی ذریعہِ آمدنی نہیں ہے۔

اسی بارے میں