عراقی فوج پہلی بار موصل کے مضافات میں داخل، سخت مزاحمت کا سامنا

موصل تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو موصل میں شکست دینے کے لیے جاری فوجی کارروائی میں عراقی فورسز پہلی بار موصل کے مضافاتی علاقوں میں داخل ہو گئی ہیں۔

عراقی فوج کے ایلیٹ کمانڈوز نے شہر کے مشرقی حصے پر حملہ کر کے کوکجلی میں واقع سرکاری ٹی وی چینل کی عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا جو دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں شریک افواج کے ہمراہ ہیں، کہنا ہے کہ عراقی افواج کو موصل میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور شدت پسند تنظیم کے جنگجو عراقی افواج پر راکٹ گرنیڈوں سے حملہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب عراقی فوج کا کہنا ہے کہ فوجیں جنوب مشرقی علاقے جدیدتالمفتی میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔

وزیراعظم حیدر العبادی نے سرکاری ٹی وی پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ موصل میں تین ہزار سے پانچ ہزار شدت پسند موجود ہیں اور دولتِ اسلامیہ کے پاس اب اور کوئی راستہ نہیں ہے، انھیں یا ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا مرنا ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'ہم داعش کے گرد گھیرا تنگ کر دیں گے اور انشااللہ سانپ کا سر بھی کاٹ دیں گے۔ ان کے پاس نکلنے یا فرار ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔'

حیدر العبادی عراقی فوج کے کمانڈر ان چیف بھی ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ موصل پر قبضہ کرنے کا آخری آپریشن کب شروع کیا جائے گا۔ شہر میں دولتِ اسلامیہ کی مزاحمت بڑھ رہی ہے۔

عراقی فوج کے ساتھ سفر کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگار ایئن پانل کا کہنا ہے کہ پیر کے روز فوج کی پیش قدمی کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے بتایا کہ دولتِ اسلامیہ نے فوجی قافلے کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا تھا۔

اس سے قبل عراقی فوج کا کہنا تھا کہ انھوں نے موصل کے قریب متعدد دیہات پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

موصل عراق میں دولتِ اسلامیہ کا آخری گڑھ ہے اور اس کے شدت پسندوں نے سنہ 2014 میں شہر پر قبضہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

موصل میں ہی دولت اسلامیہ کے رہنما ابو بکر البغدادی نے عراق اور شام میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں خلافت کا اعلان کیا تھا۔

موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی اور گذشتہ ہفتے عراقی توپ خانوں نے موصل پر گولہ باری کا آغاز کیا۔ جس کے ساتھ ہی اس جنگ کا آغاز ہوگیا۔

عراقی اور اتحادی افواج اور کرد پیش مرگاہ کے 30 ہزار جوان اس کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

موصل میں کارروائی کے آغاز پر اقوامِ متحدہ نے شہر میں محصور 15 لاکھ افراد کے تحفظ کے حوالے سے 'شدید خدشات' کا اظہار کیا ہے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ موصل پر عراقی افواج کا دوبارہ قبضہ ہونا درحقیقت عراق میں دولتِ اسلامیہ کی مکمل شکست کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں