دنیا میں صحافتی آزادی کے خلاف سرگرم 'پریس شکاری'

انڈین صحافی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صحافتی آزادیوں کے لیے سرگرم عالمی تنظیم رپورٹر ساں فرنٹیئر نے صحافتوں کو قتل، قید یا ہراساں کرنے والے 35 صدور، سیاستدانوں، مذہبی رہنماؤں، ملیشیاؤں اور جرائم پیشہ تنظیموں کی 'پریس شکاری' کے نام سے ایک تازہ فہرست یا گیلری جاری کی ہے۔

صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا سے استثنیٰ کے خلاف آج بدھ کو دینا بھر میں منائے جانے والے اس دن کی مناسبت سے یہ فہرست جاری کی ہے۔

٭ 'صحافی مارو گے تو سچ تک کیسے پہنچو گے'

ایک بیان میں اس کا کہنا ہے کہ یہ شکاری میڈیا پر سالوں بلکہ بعض کئی دہائیوں سے حملے کر رہے ہیں۔ آر ایس ایف کے مطابق اس فہرست کا مقصد کسی بھی احتساب سے یہ افراد یا تنظیمیں جو استثنیٰ حاصل کیے ہوئے ہیں اس کی نشاندہی کرنا ہے۔

تنظیم نے ایسے شکاریوں کے پرمٹ بھی بنائے ہیں۔ پرمٹ میں ان کی پسندیدہ حملے کی تکنیک، اس پر عمل درآمد کروانے والوں، ان کے پسندیدہ ہداف اور ان کا سرکاری موقف دیا گیا ہے۔ فہرست میں ان کے مبینہ ہداف کی تعداد بھی شامل ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے بارے میں فہرست میں طالبان شامل ہیں جن پر تنظیم اپنے زیر اثر علاقوں میں صحافت مکمل طور پر ناممکن بنانے کا الزام عائد کرتی ہے۔

تنظیم نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو بھی اس فہرست میں سال 2002 کے بعد سے شامل کیا ہوا ہے اور اس پر کم از کم تین صحافیوں کے قتل یا حملے میں مبینہ طور پر شامل ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

آئی ایس آئی کی جانب سے سلیم شہزاد کے قتل میں تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کے سامنے پیش موقف کو اس کا موقف قرار دیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ 'افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف الزامات ایک بڑی گیم کا حصہ ہیں جو پاکستانی ریاست کو کمزور کرنے کی ایک سازش کا حصہ ہے۔'

آر ایس ایف کے سیکریٹری جنرل کرسٹوفر ڈیلوئر کا کہنا تھا کہ یہ وہ شکاری ہیں جو میڈیا کی آزادی کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور صحافیوں کے خلاف سنگین مظالم کے مرتکب ہیں اور ان کا کبھی احتساب نہیں ہوتا ہے۔'اس استثنیٰ کے گرداب کو توڑنے کی ایک صورت اقوام متحدہ کے صحافیوں کے تحفظ کے لیے خصوصی نمائندے کی تقرری ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ماضی کی طرح اس مبینہ شکاریوں کی فہرست میں سنگاپور، تھائی لینڈ، کیوبا، اریٹریا، برونڈی، کانگو اور جنوبی سوڈان شامل ہیں۔

اس فہرست میں جو نئے نام شامل ہوئے ہیں ان میں ترکی کے صدر طیب اردغان ہیں جو اب ملک کے تمام میڈیا گروپس کو کنٹرول کرتے ہیں۔

اس سال جولائی میں ایک ناکام بغاوت کے بعد انہیں دو سو صحافیوں کی گرفتاری اور سو اخبار و جرائد اور الیکٹرانک میڈیا بند کرنے کا موقع دیا۔

فہرست میں مصر کے صدر السیسی اور تھائی لینڈ کی حکومت کے سربراہ پروت چن و چاہ بھی صحافیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور میڈیا پر قدغنیں عائد کرنے کی وجہ سے شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں