موصل: عراقی دستوں کی منتظر ایک بھدی اور مشکل جنگ

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption موصل ہی وہ شہر ہے جو نفرت کی آماجگاہ بن چکا ہے

موصل پر شدت پسندوں کا قبضہ چھڑانے کی جنگ ابھی بمشکل شروع ہوئی ہے اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے دکھا دیا ہے کہ وہ اس شہر سے خاموشی سے نکل جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

منگل کو جب جدید اسلحے سے لیس عراق کے انسنداد دہشتگردی کے دستوں نے مشرق کی جانب سے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی تو وہاں جنگجو نشانچیوں، کار بموں اور ان بُوبی ٹریپس یا خفیہ جالوں کا سامنا کرنا پڑا جو دولتِ اسلامیہ نے فوجیوں کو پھانسنے کے لیے بچھا رکھے تھے۔

بظاہر دکھائی دیتا تھا کہ انسدادِ دہشتگردی کے اہلکار بڑے آرام سے ٹہلتے ہوئے شہر کی جانب بڑھ رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ یہ خصوصی دستے کسی بھی اچانک حملے کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

ان میں بہت سے اہلکار ایسے ہیں جو رمادی یا فلوجہ یا دونوں شہروں کی لڑائی میں زخم کھا چکے ہیں۔ یہ لوگ اپنے کئی دوست ان لڑائیوں میں گنوا چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ اتنے کم عمر ہیں کہ آپ حیران ہوتے ہیں کہ اتنی کم عمر میں انھیں جنگ کا اتنا زیادہ تجربہ ہو چکا ہو۔

کئی ایک ایسے ہیں جنھیں شادیی کیے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے۔ جنگ پر جانے سے پہلے یہ عام ہے کہ جوان فوجیوں کی شادیاں ہو جاتی ہیں۔ محاز پر وہ بڑے شوق سے اپنے دوستوں کو سمارٹ فونز پر اپنی نئی نویلی دلہنوں کی تصویریں دکھاتے نظر آتے ہیں۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی فورس، کاؤنٹر ٹیررزم فوس‘ میں شام ہونے والے ہر اہلکار کو، چاہے وہ جنرل ہو یا عام سپاہی، یہ بات بار بار بتائی جاتی ہے کہ جو جنگ وہ لڑنے جا رہے ہیں وہ آسان نہیں ہوگی۔ ان کا مشن مہینوں جاری رہ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption موصل میں عراقی دستوں کا سامنا جنگجو نشانچیوں، کار بموں اور بُوبی ٹریپس سے پڑے گا

لیکن موصل کی لڑائی وہ لڑائی ہے جس کا انتظار یہ اہلکار بڑے عرصے سے کر رہے تھے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ موصل ہی وہ شہر ہے جو نفرت کی آماجگاہ بن چکا ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سے وہ زہریلی بادل اٹھے تھے جو بعد میں پورے عراق میں پھیل گئے۔ تاہم انسداد دہشتگردی کے اہلکار موصل کی اتنی بڑی مقامی آبادی کو اس نظر سے نہیں دیکھتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔

ان اہلکاروں سے بہتر شاید کوئی بھی نہیں جانتا کہ دولت اسلامیہ کے تسلط میں عام شہریوں پر کیا گزرتی ہے، کیونکہ اکثر یہی اہلکار وہ پہلے لوگ ہوتے ہیں جو جنوجوؤں کے زیر قبضہ علاقوں میں داخل ہوتے ہیں۔

ان لوگوں میں ہموی ٹرک پر لگی آٹو میٹک بندوق چلانے والا ایک گنر بھی شامل ہے جس کا نام ہی ’گولی‘ پڑ چکا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران عراق کے مختلف علاقوں میں لڑتے ہوئے اس کے جسم میں اتنے بموں کے ٹکڑے پیوست ہو چکے ہیں کہ دوستوں کا اسے ’گولی‘ کہنا بے جا نہیں لگتا۔

ابتدائی گپ شپ کے بعد ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے بیوی بچوں کی تصویریں دکھائیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کی صرف دو ’محبتیں‘ ہیں۔ اس کی بیوی اور اس کا ملک۔

وہ جب مسکراتا ہے تو ظاہر نہیں ہونے دیتا کہ ان جنگوں میں وہ کیا کیا کچھ دیکھ اور کر چکا ہے۔

قریب ہی کھڑا اس کا ایک دوست، جو خود بھی گنر ہے‘ اس نے مجھے ان مسخ شدہ لاشوں کی تصویریں دکھائیں جو ان دونوں نے فلوجہ میں دیکھی تھیں۔

ان کے ایک کمانڈر کا نام میجر سلام ہے۔ اگرچہ ان کا پورا نام کچھ اور ہے، لیکن انھیں اپنا پورا نام بتانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ان کے سپاہی میجر سلام کے کسی حکم پر کسی قسم کا سوال نہیں اٹھاتے۔ ہر کوئی انھیں ’دروازے توڑ دینے والا‘ میجر کہتا ہے۔

میجر سلام کو آپ ہمیشہ اپنے جوانوں سے آگے پائیں گے اور ان کے جسم پر گولیوں اور بموں کے ٹکڑوں کے نشان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ وہ ’سب سے آگے لڑنے والے رہنما‘ ہیں۔ فلوجہ کی لڑائی کے بعد اس سال وہ کئی ہفتوں تک فرانس میں زیرِ علاج رہ چکے ہیں۔

ان دستوں میں اگر کچہ ہیرو ایسے ہی جن کا تنا نام نہیں ہے، تو وہ لوگ ہیں جو بُلڈوزر چلاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہی جنھیں جلدی جلدی روانہ کیا جاتا ہے کہ وہ آگے جا کر خفیہ سرنگوں کے اس جال کو تباہ کریں جو دولت اسلامیہ والے پچھلے دو سالوں سے امریکی اتحاد کے فضائی حملوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

اکثر ہوتا یہ ہے کہ جب دولت اسلامیہ شہر کے مضافات کو چھوڑ کر اندروں شہر کی جانب بھاتے ہیں تو ان سرنگوں میں بھاری مقدار میں بارود لگا جاتے ہیں۔

موصل میں انسداد دہشتگردی کے دستوں اور دیگر ہزاروں لوگوں کے لیے شہری علاقوں میں لڑی جانے والی ایک بھدی، نہ سمجھ آنے والی اور مہلک جنگ انتظار کر رہی ہے۔

کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہے کہ موصل میں دولت اسلامیہ کے خلاف فتح آسان ہو گی یا اس میں خون نہیں بہے گا۔

اسی بارے میں