شامی باغیوں کو جمعے کو حلب چھوڑنے کی پیشکش

حلب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس کی بمباری کی وجہ سے حلب کا ایک بڑا علاقہ تباہ ہوچکا ہے

شام کی حکومت اور روس نے شامی فوج سے برسرپیکار باغیوں کو جمعے کی شام تک حلب سے نکل جانے کو کہا ہے لیکن باغیوں نے یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ باغیوں کو محفوظ طور پر ہتھیاروں سمیت جمعے کو دو مخصوص راستوں سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ چھ دیگر راستے عام شہریوں،بیماروں اور زخمیوں کے لیے کھولے جائیں گے۔

شام کی فوج کی جانب سے ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ اس نے'ہر بندوق بردار سے عداوتیں ختم کرنے کو کہا ہے اور وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شمال کی جانب کیسلو روڈ کے راستے سے یا پھر ادلب کی طرف جانے والے سوق الخیر کے مشرقی راستے سے اپنے ہلکے ہتھیاروں کے ساتھ شہر کو چھوڑ سکتے ہیں۔'

شام کی فوج کے بیان کے مطابق یہ راستے جمعے کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے سے شام کے سات بجے تک کھلے رہیں گے۔

روس کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے ان اقدامات کا حکم اس لیے دیا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر لوگوں کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

اس دوران روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایماندارانہ تعاون اور ایسے سیاسی عمل کا خواہاں ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں شامل ہوں۔

لیکن باغیوں نے روس اور شامی صدر کی اس پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حلب میں بمباری سے کافی جانی و مالی نقصان بھی ہوا ہے

باغیوں کے ایک گروپ استقیم کے رہنما ذکریا ملحفظی نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: 'اس کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ہم حلب کے شہر کو روس کے حوالے ہرگز نہیں کر سکتے اور ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔'

انسانی بنیادوں پر حلب کے انخلا سے متعلق پہلے بھی کوششیں ہوئی تھیں لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی کیونکہ حکومت اور باغی ایک دوسرے پر لوگوں کو نہ نکلنے دینے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

حلب کے مشرقی علاقے پر باغیوں کا کنٹرول ہے جبکہ شام کے صدر بشار الاسد کی حامی فوج نے اسی مشرقی علاقے کا اس امید پر محاصرہ کر رکھا ہے کہ اس پر دو بارہ کنٹرول حاصل کر لیا جائے۔

روس کی فضائیہ شامی فوج کی مدد کرتی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ حکومت مخالف باغیوں کو شامی فوج کے حملوں سے زبردست نقصان پہنچا ہے اور اب وہ شہر کے کھنڈرات میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

روس اور شام کا کہنا ہے کہ انھوں نے حلب پر دو ہفتوں سے زیادہ تک بمباری نہیں کی ہے۔

اس دوارن باغیوں نے بھی حلب کے اس مغربی علاقوں پر حملہ کیا ہے جس پر حکومت کو کنٹرول حاصل ہے۔

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ 'دہشت گردوں کو جانی نقصان کے علاوہ ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کے لحاظ سے بھی نقصان پہنچا ہے اور وہ شہر سے کسی بھی جانب نکلنے کی حالت میں نہیں ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں