جارج بُش بھی ہلیری کے حامی ہیں؟

جارج ڈبلیو بُش اور ان کے والد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption افواہ ہے کہ اپنے والد کی طرح جارج ڈبلیو بُش بھی ہلیری کلنٹن کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں

امریکہ کے صدارتی انتخابات کے حالیہ جائزوں میں جوں جوں ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے دونوں امیدوار زور و شور سے ان ووٹروں کا دل جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں جنھوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔

انتخابی مہم کے آخری دنوں کی اس ہنگامہ خیز فضا میں تازہ ترین افواہ یہ ہے کہ رپبلکن پارٹی کے اندر ایک گروہ جسے کل تک ڈونلڈ ٹرمپ کا پکا حمایتی کہا جا رہا تھا، وہ اب کچھ اور سوچ رہا ہے۔

ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ ان انتخابات میں اتنی زیادہ انہونیاں ہو چکی ہیں کہ اب مزید کچھ نہیں ہوگا، کہ ہمیں ایک اور حیران کن خبر ملی۔ اور وہ یہ کہ سابق صدر جارج ڈبلیو بُش اپنا ووٹ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کو دے رہے ہیں۔ اور یہ ڈیموکریٹ بھی کوئی عام امیدوار نہیں۔

اس راز سے پردہ ٹیکسس کے ایک پٹوار خانے کے افسر نے اٹھایاہے۔ ریاست کے لینڈ کمشنر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے کارکن جارج پی بُش کے بقول ممکن ہے کہ ان کے دادا جارج ایچ ڈبلیو بُش اور چچا جارج ڈبلیو بُش دونوں ہلیری کلنٹن کو ووٹ دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بُش خاندان میں ٹرمپ کے اکیلے حامی پی بُش ہی رہ گئے ہیں

جارج ڈبلیو بُش کے بھتیجے کی بات کو ان افواہوں سے بھی تقویت ملتی ہے جو گذشتہ چند ہفتوں سے گردش میں ہیں۔ ان افواہوں کے مطابق بُش سینیئر دراصل اس شخص کی اہلیہ کے مداح ہیں جس نے انھیں سنہ 1992 کے صدارتی انتخابات میں شکست دے دی تھی۔ یہ بات اس وقت منظر عام پر آئی جب سینئیر بُش کینیڈی خاندان کے کسی فرد سے گپ شپ لگا رہے تھے اور انھوں نے بتا دیا کہ وہ اصل میں ہلیری کلنٹن کی حمایت کرتے ہیں۔

لگتا ہے کہ 92 سالہ بُش سینیئر کو ڈونلڈ ٹرمپ اس لیے بھی پسند نہیں ہیں کیونکہ انھوں نے ان کے بیٹے جیب بُش کا تسمخر اڑایا تھا۔

افواہیں اپنی جگہ، لیکن ہم نے یہ پہلی مرتبہ سنا ہے کہ جارج ڈبلیو بُش بھی ہلیری کلنٹن کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لگتا ہے کہ جیسا باپ ویسا بیٹا والی کہاوت سچ ثابت ہونے جا رہی ہے۔

اس حوالے سے جب جارج بُش کے بھائی جیب بُش سے پوچھا گیا تو ان کا جواب بڑا سادہ تھا: ’سیکرٹ بیلٹ۔‘

یقیناً ڈونلڈ ٹرمپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ اس چیز سے فائدہ اٹھائیں اور کہیں کہ یہ سب کچھ خاندانی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان خاندانوں کا لگاؤ ہے کہ بُش خاندان مخالف جماعت کے امیدوار کو اپنے امیدوار پر ترجیح دے رہا ہے۔

لیکن ہو سکتا ہے کہ بُش خاندان پر تنقید کرنا ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کوئی اچھی حکمت عملی نہ ثابت ہو کیونکہ ان دنوں ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ رپبلکن پارٹی کے روایتی ووٹروں کو اپنی جانب کھینچیں۔ اور پھر حالیہ دنوں میں ٹرمپ یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ آئندہ اپنا رویہ ٹھیک کریں گے اور کوئی غلط بات نہیں کہیں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار انیتھنی زرکر کہتے ہیں کہ چونکہ گذشتہ ہفتے ہلیری کلنٹن کے لیے اچھا نہیں رہا اور انھیں بُری خبربں کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس لیے اب ٹرمپ کو پورا یقین ہو گیا ہے کہ وہ انتخاب جیت سکتے ہیں۔

اسی بارے میں