مردہ بیٹے کی ویڈیو بھجوانے والی ماں گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکی ریاست پنسلوینیا میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک عورت نے مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو قتل کیا اور اس کی لاش کی ویڈیو اس کے والد کو بھیجی۔

21 سالہ کرسچن کلارک کو پولیس نے 17 ماہ کے بچے کے قتل کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔

ان پر پولیس نے اپنی دو سالہ بیٹی کو بھی قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

کرسچن کلارک اور بچے کے والد آندرے پرائس جونیئر کے درمیان غصے والے ٹیکسٹ میسج کا تبادلہ بھی ہوا۔

پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کرسچن کلارک کو پرائس پر غصہ تھا کیونکہ ان کو شک تھا کہ پرائس کے کسی اور خاتون کے ساتھ سیکس کرنے کا منصوبہ ہے۔

منگل کے روز کرسچن نے پرائس کو بہت غصے والے ٹیکسٹ میسج بھیجے جن میں انھوں نے اپنے بچوں کو مارنے کی دھمکی بھی دی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق کرسچن نے ایک درجن میسج بھیجے جن میں سے ایک میں انھوں نے لکھا 'ہاں بچے یہاں محفوظ نہیں ہیں اور میں ان کو یہاں نہیں چاہتی۔'

ایک اور میسج میں انھوں نے لکھا 'جواب دو ورنہ میں بچوں کو خطرے میں ڈالنے کے جرم میں جیل چلی جاؤں گی۔'

پولیس کا کہنا ہے کہ کرسچن نے اپنے بیٹے کا چہرہ میٹریس کے ساتھ دبایا جس کے نتیجے میں اس کا دم گھٹ گیا۔ کرسچن نے یہی کوشش اپنی دو سالہ بیٹی کے ساتھ بھی کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کرسچن نے اپنے بوائے فرینڈ کو رات دس بجے ایک ویڈیو بھیجی جس میں دونوں بچے میٹریس پر الٹے لیٹے ہوئے ہیں۔

اگرچہ کرسچن غصے والے میسج بھیجتی رہی لیکن ان کے بوائے فرینڈ پرائس نے جواب میں زیادہ میسج نہیں کیے۔ ایک میسج ان کی جانب سے یہ تھا کہ وہ گھر واپس نہیں آ رہے اور بچوں کو کچھ نہ کہو۔

متعلقہ عنوانات