عراقی افواج کی موصل میں پیش قدمی

عراق کی خصوصی افواج خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے قبضے کو ختم کرنے کے لیے پہلی مرتبہ موصل کے مضافاتی علاقوں میں داخل ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ayman Oghanna for BBC
Image caption انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی افواج کا موصل کے مضافات میں دیہات فتح کرنے کے بعد ایک مقامی خاتون فوجی سے بغل گیر ہو رہی ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Ayman Oghanna for BBC
Image caption انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی افواج کو میجر سلام جاسم کمانڈ کر رہے ہیں۔ انھوں نے موصل پر دولتِ اسلامیہ کا خاتمہ کے لیے ہر محاذ پر حصہ لیا ہے۔ میجر جاسم عراقی شہر فلوجہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے آپریشن کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Ayman Oghanna for BBC
Image caption عراقی افواج کے دستے موصل شہر کے قریب گاؤں میں دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کے بعد سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Ayman Oghanna for BBC
Image caption فوج کی گولڈن ڈویژن کا ایک اہلکار فائرنگ کے دوران معمر شخص کو محفوظ مقام پر پہنچا رہا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Ayman Oghanna for BBC
Image caption فوجی اہلکار گھات لگا کر مارے جانے، خفیہ سرنگوں اور پھندوں کے خدشات کے باوجود پیش قدمی کر رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Ayman Oghanna for BBC
Image caption فوج کے موصل کے مشرقی حصے میں داخل ہونے پر وہاں ان کا استقبال کرنے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Ayman Oghanna for BBC
Image caption ایک نوجوان لڑکا پر ہجوم کمرے میں اپنے خاندان کے ساتھ بیٹھا ہے۔ عراقی افواج مقامی شہریوں کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Ayman Oghanna for BBC
Image caption فوجی اور عام شہری ایک ساتھ بیٹھے ہوئے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Ayman Oghanna for BBC
Image caption ایک فوجی اہلکار عام شہریوں کے ساتھ۔ موصل کا معرکہ مکمل ہونے میں چند ہفتے درکار ہیں۔