حلب میں جنگ بندی،’باغیوں کے لیے آخری موقع‘

حلب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومتی فوجوں کی جانب سے باغیوں کے زیرانتظام شہر کے مشرقی علاقوں کو جولائی سے محاصرہ کر رکھا ہے

شام کے شہر حلب میں روسی اور شام کی حکومتی افواج دس گھنٹنے پر مشتمل جنگ بندی کر رہی ہیں تاکہ باغی اور عام شہری محصور علاقوں سے نکل سکیں۔

روس کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ بندی باغیوں کے لیے شہر کے مشرقی علاقوں کو محفوظ طریقے سے چھوڑنے کا آخری موقع ہوگا۔

باغیوں کی جانب سے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور محاصرہ توڑنے کے لیے حملے کیے جا رہے ہیں۔

تقریباً 250،000 افراد محصور علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں خوراک اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے جبکہ اس دوران بمباری بھی جاری ہے۔

حلب میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہر میں لڑائی میں شدت آ رہی ہے اور حکومتی افواج کی جانب سے باغیوں کے زیر انتظام علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جبکہ انھیں باغیوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق جمعے کی صبح نو بجے سے شام سات بجے تک مسلح اور غیرمسلح باغی دو خصوصی راستے استعمال کر سکتے ہیں جبکہ چھ دیگر راستے عام شہریوں کے لیے کھولے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تقریبا 250،000 افراد محصور علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں

اس جنگ بندی کے بعد روسی اور شامی جنگی طیاروں کی جانب سے دوبارہ بمباری کیے جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو حلب کے مشرقی علاقوں میں مقیم باغیوں نے حکومت کے زیرانتظام شہر کے مغربی علاقوں پر حملے تیز کر دیے تھے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق راکٹ حملوں، فائرنگ اور کار بم دھماکوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ حکومتی فوجوں کی جانب سے باغیوں کے زیرانتظام شہر کے مشرقی علاقوں کو جولائی سے محاصرہ کر رکھا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں