عراق میں یزیدیوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

یزیدی تصویر کے کاپی رائٹ BBC Sport
Image caption یزیدی قبیلے کے لوگ سنجار کے علاقے میں سنہ 2014 میں دولتِ اسلامیہ کے مظالم کا نشانہ بنے

موصل سے نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ کی پسپائی کے بعد نامہ نگار پال موس نے یزیدی قبیلے کی مشکلات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے جو اقوامِ متحدہ کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

یزیدی عورتوں میں سے پہلی نے رونا شروع کر دیا ، پھر اس کی سہیلی نے بھی پھر وہاں آنے والی ایک خاتون کی سسکیاں بھی سنائی دینے لگیں۔

ہم یزیدی قبیلے کے لوگوں کی کہانیاں سن رہے تھے جو سنجار کے علاقے میں سنہ 2014 میں دولتِ اسلامیہ کے مظالم کا نشانہ بنے۔ اس دوران ہزاروں افراد کو قتل کیا گیا جبکہ ہزاروں مجبوراً جلا وطنی پر مجبور ہوئے۔

ایک عورت کا کہنا تھا 'ہمارے کچھ ہمسائے پہاڑوں کی طرف بھاگے لیکن ان کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی دولتِ اسلامیہ کے گروہوں نے انہیں جا لیا۔'

'مردوں کو ہلاک کر دیا گیا اور عورتوں اور بچوں کو وہ ساتھ لے گئے۔'

' بہت لوگ مارے گئے'

ان میں سے کوئی بھی خاتون اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔

دو سال پہلے کے تجربے نے انہیں دوسرے لوگوں اور مستقبل کے بارے میں گہرے خوف میں مبتلا کر رکھا تھا۔

ایک عورت کا کہنا تھا 'وہ شاید دولتِ اسلامیہ کو تو علاقے سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن ہمارے لیے اب اپنے علاقوں میں لوٹنا آسان نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ پھر سے کچھ ایسا نہ ہو۔'

'وہ شاید واپس آجائیں گے۔'

دولتِ اسلامیہ کی پسپائی کے بعد کئی عراقیوں کے ذہن میں اپنے علاقوں میں واپسی کا خیال موجود ہے۔ گو کہ یزیدی بھی واپسی کے لیے اتنے زیادہ خوفزدہ نہیں لیکن ان کے لیے بھی یہ کافی مشکل ہوگا کیونکہ سنجار اور اس کے ارد گرد کے دیہات کو باقاعدگی سے نشانہ بنایا گیا۔

عراق میں تعمیرات اور رہائش کے ذمہ دار وزیر دارا یرا کا کہنا تھا 'یہاں گھر سڑکیں ، پل سب تباہ کر دیا گیا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ یہاں تعمیر نو کا کام شروع کرنے کے لیے بھی وقت لگے گا۔

'اس طرح ی صورتحال کے بعد امن، استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ ایک طویل عمل ہے۔'

اس وقت یہ یزیدی لوگ خیمہ بستوں میں مقیم ہیں جہاں شاید انہیں ایک اور موسم سرما گزارنا پڑے۔

ان میں سے کئی تو واپس جانا ہی نہیں چاہتے اور انھوں نے یورپ اور شمالی امریکہ میں پناہ کی درخواست دے دی ہے۔

یزیدیوں کے مقدس مقامات کی سیر کروانے والے استاد لقمان سلیمان کا کہنا تھا 'یہ لوگ اب جرمنی، فرانس یا آسٹریلیا جانا چاہتے ہیں۔ یہاں کردستان میں ان یزیدیوں کا مستقبل نہیں ہے۔'

لقمان سلیمان کے مطابق زیادہ بڑا مسئلہ مکانات اور سڑکیں ہیں۔

Image caption خیمہ بستیوں میں ان خواتین کو کپڑوں کی سلائی سمیت ہنر سکھائے جاتے ہیں

ان کے بقول جو چیز ان یزیدیوں کو سنجار میں واقعے ان کے اپنے گھروں میں واپس جانے سے بد دل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے ہمسائیوں نے دولتِ اسلامیہ کی مدد کی۔

وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کا اصرار ہے کہ سنجار میں رہنے والے سنیوں نے دولتِ اسلامیہ کو بتایا کہ کون کون یزیدی ہے۔

ان کا کہنا تھا 'گاؤں والوں نے لوگوں کو قتل کروانے کے لیے دولتِ اسلامیہ کی مدد کی ، انہوں نے تمام مردوں کو مار دیا اور لڑکیوں کو ساتھ لے گئے۔'

'یہ لوگ اب وہاں ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں۔'

کوئی نہیں جانتا کہ کتنی لڑکیوں کو دولتِ اسلامیہ والے اپنے ساتھ لے گئے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کی تعداد پانچ سے سات ہزار ہے اور ایک خیال یہ بھی ان میں سے زیادہ تر کو شام میں اور کچھ کو یہیں موصل میں جنسی غلام بنا کر رکھا گیا ہے۔

خیمہ بستیوں میں ان خواتین کو کپڑوں کی سلائی سمیت ہنر سکھائے جاتے ہیں۔ جس کا مقصد انہیں ایک محفوظ ذریعۂ معاش فراہم کرنا ہے۔

ویان احمد کا کہنا تھا 'ہم انہیں مصروف رکھنا چاہتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ یہ سوچتی رہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔'

دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں سے بچ نکلنے والے زیادہ تر لوگ تنہائی پسند ہو گئے ہیں۔ ہم ان کی مدد کر رہے ہیں کہ وہ اس کیفیت سے نکل آئیں۔'

ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ان کیمپوں سے باہر نکل آئیں اور ان کے لیے بھی جو وہاں لوٹنا چاہتے ہیں جہاں وہ کئئ نسلوں سے مقیم تھے۔ اگرچہ یہ ناممکن نہیں ہے لیکن بہرحال کافی مشکل ہے۔

اسی بارے میں