تنزانیہ کے سوشل میڈیا صدر اتنے مقبول کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر جان میگوفولی کو منصوبوں جلدی مکمل کرانے کی وجہ سے انھیں ’بل ڈوزر‘ کہا جاتا ہے

افریقی ملک تنزانیہ کے صدر جان میگوفولی نے ایک سال پہلے جب اقتدار سنھبالا تو سوچیں ان کا پہلا اقدام کیا تھا۔ وہ منصب صدرات پر بیٹھنے کے ایک روز بعد اپنے دفتر سے نکلے اور وزارت خزانہ پہنچے اور ان سرکاری اہلکاروں کے بارے میں دریافت کیا جو اپنے دفتر سے غیر حاضر تھے۔

صدر جان پولے میگوفولی کو سب سے زیادہ شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب انھوں نے نو دسمبر کو یوم آزادی کے موقعہ پر ملک میں صفائی کی مہم چلائی جس میں وہ خود شریک ہوئے اور خود سڑک پر پڑے ہوئے کوڑے کو اٹھا کر ٹرالی میں ڈالا اور مزدوروں کو بتایا کہ وہ کوڑا اٹھانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔

انھوں نے اعلان کیا کہ یوم آزادی کی تقریبات منانے کے لیے مختص فنڈز کو سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر کرنے پر خرچ کریں گے۔

صدر جان میگوفولی کے اقدامات کا مشرقی افریقی ممالک میں خوب تذکرہ ہو رہا ہے اور بعض پڑوسی ممالک میں لوگوں نے سوشل میڈیا پر ایسے ہیش ٹیگ بنائے جس کا مقصد تو ان کا مذاق آڑنا تھا لیکن وہ دراصل ان کے طرز حکمرانی کی مشہوری کا باعث بن گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک شخص نے لکھا کہ وہ گوچی چشمہ حاصل کرنےکے خواہش رکھتے تھے لیکن پھر انھیں میگوفولی یاد آئے اور انھوں نے عینکوں پر کالا شاپر لگا کر انھیں عینکوں کو گوچی چشمہ بنا لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک اور شخص نے لکھا کہ ان کی گاڑی خراب ہو گئی اور دفتر جانے میں انھیں دیر ہو رہی تھی پھر انھیں جان میگوفولی یاد آئے۔

ایک اور شخص نے لکھا کہ وہ چولھا خریدنا چاہتے تھے پھر انھیں مویگافلو یاد آئے اور انھوں نے سوچا کہ اگر میگوفولی میری جگہ ہوتے تو وہ کیا کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک اور شخص نے لکھا کہ وہ چولھا خریدنا چاہتے تھے پھر انھیں میگوفولی یاد آئے اور انھوں نے سوچا کہ اگر میگافولی میری جگہ ہوتے تو وہ کیا کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

یہ تمام ہیش ٹیگز صدر میگوفولی کا تمسخر اڑانے کی نیت سے بنائے گئے تھے لیکن وہ دراصل انھیں کے حق میں گئے۔

شروع میں لوگوں کاخیال تھا کہ میگوفولی اپنی طرز حکمرانی کو برقرار نہیں رکھ پائیں گے اور تھوڑے ہی عرصے وہ بھی ایسے ہی ہو جائیں جیسے ماضی میں تنزانیہ کے حکمران تھے۔ لیکن ابھی تک انھوں نے اپنے ناقدین کو حیران و پریشان کر رکھا۔

وہ اپنے طرز حکمرانی سے لوگوں کے دل جیت رہے ہیں اور ایک حالیہ سروے میں ان کی عوامی پسندیدگی 96 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار کٹی لا ممبو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر میگافولی تنزانیہ کے عام شہریوں میں انتہائی مقبول ہیں۔

میگوفولی کے سرکاری دفاتر پر چھاپے کے مثبت اثرات ظاہر ہونا ہو چکے ہیں۔ اب سرکاری ملازمیں وقت پر دفتر آتے ہیں اور اپنا کام پہلے سے اچھے انداز میں نپٹا رہے ہیں۔ ایک پولیس سربراہ نے تو یہاں تک حکم دے دیا جو پولیس اہلکار بھی دیر سے ڈیوٹی پر پہنچے گا اس حوالات میں بند کر دیا جائے گا۔

دارالحکومت دارالسلام میں بی بی سی کے نمائندے سیمی عوامی نے بتایا کہ اب میگوفولی کے اقدامات کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں اور سرکاری ہسپتال میں انتظام پہلے سے بہتر ہو چکا ہے۔

صدر میگوفولی کی طرف سے سکینڈری سطح تک مفت تعلیم کا وعدہ بھی عوام میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔

صدرمیگوفولی کے حکم سے ہونے والے ایک حالیہ آڈٹ میں سامنے آیا ہے کہ تنزانیہ میں دس ہزار گھوسٹ ملازمین ہیں جن کو ہر ماہ سرکاری خزانے سے بیس لاکھ ڈالر ادا کیے جاتے تھے۔

ایک اور شخص نے لکھا کہ وہ چولھا خریدنا چاہتے تھے پھر انھیں میگوفولی یاد آئے اور انھوں نے سوچا کہ اگر میگوفولی میری جگہ ہوتے تو وہ کیا کرتے۔

صدر میگوفولی اب دوسرے افریقی ممالک کے لیے ایک مثال بن چکے ہیں۔ جب وہ حالیہ مہینوں میں پڑوسی ملک کینیا کا دورہ کرنے آئے تو ان کا جس انداز میں استقبال کیا اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کینیا کے شہریوں میں کتنے مقبول ہیں۔ کینیا کے ایک مقبول کارٹونسٹ نے گاڈو نے ایک کارٹون بنایا کہ جس میں وہ دکھاتے ہیں کہ جب صدر میگوفولی جہاز سے اترتے ہیں تو ان کے ہاتھ میں چھڑی ہے جس سے وہ ان سرکاری ملازمین کی پٹائی کرتے ہیں جو اپنا کام اچھے انداز میں نہیں کرتے۔

اسی کارٹونسٹ نے حال ہی افریقہ کے ڈکٹیٹروں کے کارٹون بنائے جن میں صدر میگوفولی کو ایک چھوٹا ڈکیٹر' دکھایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

البتہ بیرونی سرمایہ کاروں کو صدر میگوفولی کے انداز حکمرانی پر اعتراضات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین کو دباتے ہیں اور انھوں نے آزادیِ اظہار پر قدغنیں لگائی ہیں۔

امریکی امدادی ادارے ایم سی سی نے حال ہی میں ان خدشات پر 500 ملین ڈالر کی امداد روک دی ہے کہ سائبر کرائم کے حوالے سے بنائے قوانین سے آزادی اظہار پر پابندی لگائی گئی ہے۔

صدر میگوفولی اس برس شاید فوربز کے مشہور 'افریقہ پرسن' ایوارڈ کے حقدار قرار پائیں۔ صدر میگوفولی کو تنزانیہ کی معیشت کو بہتر کرنےپر اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں