لارڈ چانسلر ججوں پر حملوں کی مذمت کریں: انگلینڈ بار کونسل

Image caption مس ٹرز لارڈ چانسلر کے عہدے پر فائز ہیں اور ان کی ذمہ داریوں میں عدالتیں، جیلیں، پروبیشن اور آئینی امور آتے ہیں

انگلینڈ اینڈ ویلز بار کونسل کا کہنا ہے کہ بریکسٹ سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ججوں پر کیے جانے والے حملے ’غیر منصفانہ' ہیں اور لارڈ چانسلر لز ٹرس کو اس کی مذمت کرنی چاہیئے۔

بریکسٹ سے متعلق آرٹیکل کے حوالے سے ارکان پارلیمان کی ووٹنگ کروائے جانے سے متعلق عدالتی فیصلے کے بعد کنزرویٹو پارٹی کے اراکین اور بعض اخبارات کی جانب سے کڑی تنقید کے بعد اس بابت حکومت سے ضروری اقدامات کرنے کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔

برطانیہ بریکسٹ پر پارلیمان سے ووٹنگ کروائے: عدالت

برطانیہ میں لیبر پارٹی نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین سے نکلنے کے معاملے پر متنازع فیصلہ سنانے والے ہائی کورٹ کے ججوں کے دفاع کے لیے سامنے آئے۔

ڈیلی میل نے ان ججوں کو 'عوام کا دشمن‘ قرار دیا جبکہ ڈیلی ایکسپریس نے 'آج جمہوریت مر گئی' کی ہیڈلائن لگائیں۔

لیبر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مس ٹرز کی خاموشی عدلیہ کو مایوس کر رہی ہے۔

جمعرات کو برطانوی ہائی کورٹ نے حکم صادر کیا تھا کہ ملک کی پارلیمان یورپی یونین سے نکلنے کے عمل پر لازمی ووٹنگ کروائے۔

عدالتی فیصلے پر شدید تنقید کے بعد انگلینڈ اور ویلز کی بار کونسل نے مس ٹرز سے کہا ہے کہ وہ ججوں کا دفاع کریں۔ ’وہ لارڈ چانسلر کے عہدے پر فائز ہیں اور ان کی ذمہ داریوں میں عدالتیں، جیلیں اور پروبیشن اور آئینی امور آتے ہیں۔‘

بار کونسل نے اپنے بیان میں کہا لارڈ چانسلر کی جانب سے مذمتی بیان نہ دینے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔

بار کونسل نے ان سے ہنگامی معاملہ سمجھتے ہوئے اس بارے میں فوری بیان جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

بیان میں کہا گیا 'جمہوریت کی بقا اور قانون کی عملداری کے لیے مضبوط اور آزاد عدلیہ کا ہونا لازمی ہے۔'

عدالتی فیصلہ کے بعد حکومت ازخود لزبن معاہدے کی شق 50 کے تحت کارروائی شروع نہیں کر سکتی جس کے تحت یورپی یونین سے رسمی مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔

برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا ہے کہ ریفرینڈم کی رو سے ارکانِ پارلیمان کو رائے شماری کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم مبصرین نے اسے غیرآئینی قرار دیا ہے۔

حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔ اب اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ میں ہو گی جو اگلے ماہ کے اوائل میں متوقع ہے۔

اس سے قبل برطانیہ نے 48.1 فیصد کے مقابلے پر 51.9 فیصد کی اکثریت سے 'بریکسٹ' کہلانے والے ریفرینڈم کے ذریعے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

یورپی یونین کے دیگر 27 ارکان نے کہا ہے کہ برطانیہ کی علیحدگی کے مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں کیے جا سکتے جب تک شق 50 کا سہارا نہ لیا جائے۔

اسی بارے میں