عراق کے دو شہروں میں دھماکے، شیعہ زائرین سمیت 21 افراد ہلاک

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

عراق کے دو شہروں میں ایمبولینس کے ذریعے کیے جانے والے دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تکریت کے علاوہ ایک دھماکہ سمارا شہر میں ہوا جہاں پر شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے زائرین کو نشانہ بنایا گیا۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے دونوں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عراق میں یہ دھماکے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب ملک میں سکیورٹی فورسز اور اس کے اتحادی موصل کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں جو عراق میں دولتِ اسلامیہ کا آخری مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

پہلا دھماکہ موصل سے 200 کلومیٹر دور جنوب میں واقع شہر تکریت میں ہوا۔

ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری ایمبولینس کو ایک چیک پوسٹ پر کھڑی گاڑیوں کے درمیان لا کر دھماکے سے اڑا دیا۔

سمارا میں بھی اسی طرح دھماکہ خیز مواد سے بھری ایمبولینس کو العسکری مسجد کی کار پارکنگ میں دھماکے سے اڑایا گیا۔

یہ کار پارکنگ شیعہ مسلک کے زائرین کے لیے مختص تھی جبکہ ہلاک ہونے والوں میں ایرانی شہری بھی شامل ہیں۔

موصل میں سکیورٹی فورسز کی پیش قدمی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

عراق کے وزیر اعظم نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ اگر وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہتھیار ڈال دیں۔

وزیر اعظم حیدر العبادی نے شہر کے مشرقی مورچے کے دورے کے دوران یہ باتیں کہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکوت کی قیادت والی فوجیں نہ تو واپسی کی راہ اختیار کریں گی اور نہ ہی ٹوٹیں گی۔

انھوں نے کہا کہ موصل کے عوام کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ ہم آپ کو جلد ہی آزاد کرا لیں گے۔

خیال رہے کہ یہ شہر دو سال سے بھی زیادہ عرصے سے دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں ہے۔

موصل کے مشرقی علاقوں میں حکومتی افواج کے قدم جمانے کے بعد وزرِ اعظم العبادی نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا ہے۔

انھوں نے کہا: دولت اسلامیہ کو میرا پیغام ہے کہ اگر وہ اپنی جان کی امان چاہتے ہیں تو انھیں ہتھیار ڈال دینے چاہیئں۔

فوج کا کہنا ہے کہ شدید مزاحمت کے باوجود حکومتی افواج نے موصل سے 15 کلومیٹر جنوب میں دریائے دجلہ کے پاس آباد قصبے حمام العلیل پر سنیچر کو قبضہ کر لیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل رائد شاکر جودت نے کہا کہ سکیورٹی افواج نے شہر کے مرکز پر قبضہ کر لیا ہے تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو وہاں سے پوری طرح بھگا دیا گیا ہے یا نہیں۔

موصل کو واپس حاصل کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے اور حکومتی افواج الزہرہ سیمت مشرقی اضلاع کی صفائی کرنے کی کوششوں میں ہے۔ جمعے کو وہ اس علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

حکومتی فورسز اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے رہائشی علاقوں کی چھتوں سے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور مارٹر کے گولے بھے داغے گئے۔ سب سے شدید لڑائی البکر کے علاقے میں دیکھی گئی۔

اسی بارے میں