الیکشن ڈائری: ’ٹرمپ کے امریکہ میں بچوں کی پرورش کا تصور نہیں کر سکتا‘

ٹرمپ کی حامی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواتین کے بارے میں صدارتی امیدوار ٹرمپ کے خیالات پر ان کی تنقید ہوتی رہی ہے

میں برقعے میں نہیں تھی اس لیے دریسا کو لگا میں پاکستان سے نہیں ہو سکتی۔

ظاہر ہے ان کی رائے بنانے میں پاکستان سے آنے والی خبروں نے اہم کردار ادا کیا ہے اور وطن عزیز سے اچھی خبریں کم ہی ملتی ہیں۔

٭رہنا امریکہ میں مگر پھر بھی دل ہے پاکستانی!

٭ متذبذب امریکیوں کے لیے ہلیری 'کٹھ پتلی' اور ٹرمپ 'ایک مذاق'

مغربی افریقہ کے ملک مالی میں دریسا نے اپنی خواتین کے ساتھ بہت ظلم و ستم ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔

اپنے والد کے ہاتھوں والدہ کی مار پیٹ کے مناظر آج بھی ان کے ذہن پر نقش ہیں۔ ان واقعات کو یاد کرتے ہوئے دریسا جذباتی ہو جاتے ہیں۔

اس وقت بھی میں ان کے جذبات کی جہتیں سمجھ رہی تھی کہ انھوں نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا: 'مرد کی زندگی بنانے میں عورت کلیدی کردار ادا کرتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں یہ عام ہے کہ مرد اس کی محبت کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھا دے۔ اور پھر اس پر فخر بھی کرے۔'

'مجھے آج بھی اپنی ماں کی چیخ و پکار یاد ہے، حالانکہ میں صرف چھ برس کا تھا۔ اور کبھی کسی نے آ کر میرے والد کو مارپیٹ سے نہیں روکا۔‘

'میں اس وقت تو اپنی ماں کو نہیں بچا سکا لیکن اب میں اپنے باپ سے بدلا لے رہا ہوں۔ 'میں سارے پیسے اپنی ماں کو بھیجتا ہوں تاکہ میرا باپ ان کے آگے ہاتھ پھیلائے اور اس کی جھوٹی انا کو ٹھیس پہنچے۔'

بات میرے برقعے سے ہوتے ہوئے امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی خواتین کے بارے میں رائے تک جا پہنچی۔

33 سالہ دریسا کی ابھی شادی تو نہیں ہوئی مگر ’ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ‘ میں اپنے بچوں کی پرورش کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ پہلے پیچھے بتائے جا رہے تھے لیکن گذشتہ ہفتے سے کانٹے کے مقابلے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے

'ڈونلڈ ٹرمپ جس طرح کی باتیں کر چکے ہیں اگر میری بیٹی یا بیٹا سنتے تو وہ یہی سمجھیں گے کہ عورت کمتر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ بدسلوکی مرد کا حق ہے۔‘

لیکن دریسا کے برعکس جھجر سنگھ جو نو برس سے امریکہ میں مقیم ہیں اور وہ ان باتوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کا ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں۔

جھجر سنگھ کا تعلق انڈین پنجاب کے علاقے قلندر سے ہے۔ وہ کہتے ہیں: 'دیکھیے جی امریکہ میں جمہوریت ہے اور سب سے کے پاس حق ہے جو مرضی کہیں۔'

میں نے حیرت سے پوچھا چاہے وہ بدتمیزی کے زمرے میں ہی کیوں نہ آتا ہو؟ جس پر انھوں نے کہا کہ 'یہ ڈونلڈ ٹرمپ اور خواتین کا ذاتی معاملہ ہے۔'

اور یہ بھی آپ کو بتاتی چلوں کہ جھجر سنگھ کی اپنی دو بیٹیاں ہیں اور ٹیکسی سے اترتے ہو‏ئے مجھے تجسس کھائے جا رہا تھا کہ دختران جھجر سنگھ اس پر کیا رائے رکھتی ہوں گی؟

ٹرمپ کے حامی جھجر سنگھ نے شکست کی صورت میں جواز پہلے سے ہی تلاش کر رکھا ہے۔

ان کے مطابق 'ٹرمپ کا امیدوار منتحب ہونا ایک بڑی سازش کا حصہ ہے کیونکہ اسٹبلیشمینٹ ہلیری کو لانا چاہتی تھی اس لیے ان کے سامنے ٹرمپ کو لا کھڑا کیا۔'

یہ سازشی مفروضہ مجھے کئی لوگ رازداری سے سنا چکے ہیں تاہم یہ آپ کو بھی مضحکہ خیز نہیں لگ رہا؟

اسی بارے میں