رقہ کی جنگ امریکہ کے لیے پیچیدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عراقی شہر موصل میں جاری فوجی کارروائی جب آگے بڑھ رہی ہے تو امریکی حکام نے شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خود ساختہ' دارالحکومت' رقہ کو آزاد کرانے کے لیے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس وقت یہ آپریشن جاری ہے اور امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے اتوار کو کہا ہے کہ رقہ کا گھیراؤ یا اسے تنہا کرنا اور بلآخر اسے مکمل آزادی دلانا ہمارے اتحاد کے منصوبے کا اگلا قدم ہے۔

لیکن رقہ میں کارروائی جس کا انحصار اس وقت کرد فورسز ہر ہے اور اس سے نہ صرف ترکی کی طرف سے بلکہ کم از کم آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں مقامی اور علاقائی مسائل کا سبب بنے گی۔

اس وقت آپریشن میں حصہ لینے والی فورسز کا صرف امتزاج ہی نہیں بلکہ اس کا حجم بھی ایک اہم پہلو ہو گا کیونکہ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ رقہ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے قابل ذکر فوجیوں کی تعداد میسر ہے کہ نہیں۔

رقہ میں تیز پیش قدمی سے سٹریٹیجک اہمیت کی حامل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption موصل میں آپریشن کے لیے مقامی اور سیاسی حمایت حاصل ہے

رقہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے خلافت کے اعلان کے بعد سے اس کا خود ساختہ دارالخلافہ ہے۔ موصل اور رقہ میں بیک وقت کارروائی گروہ کی آپریشنل منصوبہ بندی کو مشکل بنا سکتی ہے اور اس کے جنگجو خاص کر غیر ملکیوں کے فرار کو محدود کرنا ہے۔

امریکہ انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر دعویٰ کرتا ہے کہ دوسرے ممالک میں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی رقہ میں کی گئی۔ تو رقہ کو تنہا کر کے وہاں سے فرار کے راستوں کو بند کرنا آپریشن کا ابتدائی ہدف ہو گا۔

لیکن رقہ موصل نہیں ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ شام میں عرب جنگجوؤں کی تعداد بڑھائے

عراق میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو حاصل سہولیات اس وقت شام میں میسر نہیں ہیں۔

عراق میں حکومت ہی سب مسائل کی جواب دہ ہے اور یہاں کم از کم اتحادیوں کی تسلیم شدہ حکومت ہے۔ اس کے علاوہ یہاں امریکہ کے پاس عراقی سکیورٹی فورسز کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے قابل ذکر وقت اور سرمایہ موجود ہے۔

عراق میں مختلف مسلح گروہوں پر مشتمل ایک اتحاد موصل میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے اور امریکہ کو یہاں زمین پر ممکنہ طور پر رابط کاری اور براہ راست زمینی لڑائی میں حصہ لیے بغیر خاصی تعداد میں مشیروں اور سپیشل سکیورٹی فورسز کی تعداد میسر ہے۔

شام کی صورتحال بالکل مختلف ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

رقہ میں اس وقت آپریشن شروع کرنے کے اعلان پر امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ اسے اس وقت دستیاب سب سے باصلاحیت فورسز کے ساتھ کارروائی کرنا ہے اور یہ خود ساختہ سیرئین ڈیموکریٹک فورسز یعنی ایس ڈی ایف ہے۔

یہ کرد اور عرب ملیشیا فورسز پر مشتمل اتحاد ہے اور اس نے رقہ کے شمال میں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں لیکن اس اتحاد میں اکثریت کردوں کی پاپولر پروٹیکشن یونٹ یعنی 'وائے پی جی' کے جنگجوؤں کی ہے اور یہ تعداد بعض اندازوں کے مطابق 25 سے 30 ہزار کے قریب ہے۔

ترکی جس نے پہلے ہی اپنی فوج اور ٹینکوں کو شامی حدود میں دھکیل رکھا ہے اور یہ امریکہ کے کرد تنظیم ایس ڈی ایف کے کردار پر بنیادی اختلافات رکھتا ہے اور اس کے ساتھ رقہ میں آپریشن کے لیے تعین کردہ وقت پر بھی ایسی صورتحال ہے۔

حقیقت میں اس وقت عرب باغی جنگجوؤں کے ساتھ ترک فورسز نے شامی سرحد کے اندر شمال میں 25 کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

ترک پہلے ہی کرد جنگجوؤں کے ساتھ تنازع کا شکار ہے اور امریکہ کو اتحاد کے انتظامی امور میں سب سے بڑا مسئلہ سمجھتا ہے جب امریکہ کے اندر اس وقت یہ بحث جاری ہے کہ شام میں زمین پر کتنی تعداد میں امریکی فوجیوں کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ کردوں کو بھاری ہتھیاروں سمیت امریکی اسلحے کی فراہمی پر بات چیت جاری ہے لیکن اس منصوبے کے بارے میں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسے ترکی کے تحفظات کی وجہ سے روک دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں اس وقت امریکی فوج کے 300 اہلکار موجود ہیں

امریکہ نے عرب جنگجوؤں کی بھرتی اور ان کی تربیت کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے کیونکہ وہ رقہ میں کسی بھی آپریشن کے بعد اس کے تحفظ کے لیے عرب جنگجؤوں کو ضروری سمجھتا ہے۔

لیکن بھرتیوں کی یہ کوششیں کارگر ثابت نہیں ہو سکتی ہیں اور اس وقت تمام فورسز کو موصل میں آپریشن کرنے والی عراقی فورسز کی طرح لاجسٹک مدد اور زیادہ اندرونی حمایت حاصل نہیں ہے۔

تو اس وقت رقہ آپریشن کا مقصد شہر کے گھیراؤ کرنا ہے اور اس کے بعد کے مرحلے میں اس صورت میں حملے کے وقت کا تعین کیا جائے گا جب زمین پر قابل ذکر حد تک عرب جنگجوؤں کی تعداد میسر ہو گی۔ اس کے علاوہ اس میں ترکی سے ممکنہ سمجھوتہ اور آپریشن کے دوران رابطہ کاری کے لیے زیادہ تعداد میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی شامل ہے۔

لیکن اس آپریشن کو سیاسی حمایت کا پہلو بھی شامل نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی کی حمایت یافتہ فورسز نے شام کے شمالی علاقوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں

موصل میں جاری آپریشن میں تمام حریف مذہبی فرقوں اور نسلی گروہوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ شہر کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرا کر اس پر عراقی حکومت کی رٹ بحال کر دی جائے اگرچہ مقامی فورسز ہی آخر میں اس شہر کا کنٹرول سنبھالیں گی۔

جبکہ شام میں اس وقت ایسی حکومت قائم ہے جسے عالمی سطح پر زیادہ حمایت حاصل نہیں اور امریکی اتحاد کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائئ ہی صرف ایک ایسی جنگ ہے جس میں شام کی باغی فورسز، اسد حکومت، ایران، ترکی اور روس شامل ہیں۔

آخرکار رقہ پر دوبارہ قبضہ دولتِ اسلامیہ اور اس کی خلافت کے خواب کے لیے ایک بڑی شکست ثابت ہو گی لیکن شام کے مستقبل پر یہ کس طرح سے اثرانداز ہو سکتی ہے؟ یہ سوال اب بھی غیر یقینی ہے۔

اسی بارے میں