امریکی صدارتی انتخاب میں مہم کے آخری چند گھنٹے، پولز میں ہلیری کی برتری

امریکہ انتخاب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدارتی انتخاب کی ابتدائی پولز کے مطابق ہلیری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر چار پوائینٹس کی برتری حاصل ہے۔

امریکہ کے صدراتی انتخاب کے لیے پولنگ میں صرف ایک دن باقی ہے۔ ڈیموکریٹس پارٹی کی اُمیدوار ہلیری کلنٹن اور رپبلکن اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم بھی آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

امریکہ میں ریاست اوہائیو، نارتھ کیرولائنا، پنسلوینیا اور فلوریڈا میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

٭ خصوصی ضمیمہ: ٹرمپ اور ہلیری میں انتخابی معرکہ

٭ امریکی انتخاب میں برابری کا مقابلہ متوقع، ہلیری اور ٹرمپ کی شدید بیان بازی

٭ جارج بُش بھی ہلیری کے حامی ہیں؟

صدارتی انتخاب کی ابتدائی پولز کے مطابق ہلیری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر چار پوائینٹس کی برتری حاصل ہے۔ پولنگ سے ایک دن سے قبل بھی بڑی تعداد میں عوام نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر لیا ہے۔

امریکہ میں تمام ریاستوں میں الیکٹرول کالج کے ووٹوں کی مجموعی تعداد 539 ہے۔ امریکہ کا صدر بننے کے لیے ضروری ہے کہ کامیاب امیدوار الیکٹرول کالج کے 270 ووٹ حاصل کرے۔

پیر کو امریکی ریاست فلوریڈا میں رپبلکن اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخاب ’امریکہ کے بدعنوان سیاسی افراد‘ کو مسترد کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ صدر منتخب ہونے کے بعد ملک میں حکومتی بدعنوانی خاتمہ کریں گے اور ملازمت کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔

ادھر پٹیسبرگ میں ڈیموکریٹ اُمیدوار ہلیری کلنٹن نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ’پر اُمید اور بڑے دل والے امریکہ‘ کو ووٹ دینا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ امریکی عوام کو اس مرتبہ اتحاد اور تقسیم کو چننا ہے۔

امریکہ میں پولنگ سے ایک دن سے قبل بھی بڑی تعداد میں عوام نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ امریکہ میں اب تک چار کروڑ 49 لاکھ افراد نے بذریعہ ڈاک یا پولنگ سٹیشن کے ذریعے ووٹ ڈال دیا ہے جو کہ مجموعی ووٹوں کا تقریباً 40 فیصد ہے۔

ہسپانوی نژاد امریکیوں ٹرن آؤٹ زیادہ رہا جس سے ہلیری کلنٹن کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امکان ہے کہ تقریباً پانچ کروڑ افراد پولنگ کے دن سے قبل ہی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہوں گے۔

اس سے پہلے سنہ 2012 کے اتخاب میں چار کروڑ 60 لاکھ افراد نے پولنگ کے دن سے قبل ووٹ ڈال دیا تھا۔

امریکہ کے تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے اس اعلان کے بعد ہلیری کلنٹن کے ذاتی ای میلز کے استعمال کی دوبارہ تحقیق میں ایسا کچھ نہیں ملا جس سے ادارے کے گذشتہ موقف میں تبدیلی آئے، ہلیری کے پوائینٹس میں اضافہ ہوا ہے۔

دو ہفتے قبل ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے امریکی کانگریس کے ممبران کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ ایجنسی ہلیری کی کلنٹن کی ای میلز کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی ذرائع ابلاغ فوکس نیوز کے پول کے مطابق ہلیری کلنٹن کے پوائیٹس کی تعداد 48 جبکہ ٹرمپ کے پوائنٹس 44 ہیں۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ہلیری کلنٹن کو ووٹ ڈالیں۔

ریاست مشیگن میں ڈیموکریٹس کے حامیوں کی ایک ریلی سے خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ ’آپ کو موقع ملا ہے کہ آپ امریکہ کی پہلی خاتون صدر کو منتخب کریں اور امریکہ کی تاریخ رقم کرنے کے لیے ووٹ دیں۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ ’امریکہ کے صدر کی حیثیت سے گذشتہ آٹھ برسوں میں میری ساکھ کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ میں آپ سے کہوں گا کہ مجھ پر اعتماد کریں۔ میں نے ہلیری کلنٹن کو ووٹ ڈالا ہے کیونکہ میں پر اعتماد ہوں کہ اگر وہ صدر بنیں تو یہ ملک اچھے ہاتھوں میں ہو گا۔‘

امریکہ کے محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دن نگرانی کے لیے 28 امریکی ریاستوں میں 500 سے زائد اہلکار مانیٹرنگ کریں گے۔

محکمۂ انصاف کے اہلکار 67 مختلف علاقوں میں شہری حقوق کی خلاف ورزی جیسے مذہب، رنگ، صنف کی بنیاد پر برتے گئے امتیازی سلوک پر نظر رکھیں گے۔

واضح رہے کہ آٹھ نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخاب ہے اور رپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ جماعت کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن دونوں ہی نیو یارک میں ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی صدر براک اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم چلانے کے لیے میدان میں آگئی ہیں۔ انھیں ہلیری کلنٹن کا سب سے موثر ہتھیار تصور کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں